نئی دہلی (رائٹرز، اے پی، الجزیرہ، این ڈی ٹی وی، ژنہوا) کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہااحتجاج ختم کرنے سے قبل حکومت کو مزید 2 مطالبات بھی پورے کرنا ہوں گے۔پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو ملک بھر میں پُرامن مشعل بردار مارچ کیے جائیں گے۔
پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے اسے ایک بہت بڑی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سہ پہر ساڑھے 3 بجے بلایا گیا ہے، تاہم جب تک تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے اور انہیں تحریری شکل نہیں دی جاتی، ہم احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
بانی صدر کاکروچ جنتا پارٹی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ حکومت کہتی تھی کہ ان کی سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، مگر ’’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والے ہونے چاہئیں، ہم نے کر دکھایا۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی وکٹ ہے، ہم یہاں رکیں گے نہیں، یہ تو بس شروعات ہے، تمام طلبہ اور رضاکاروں کو سلیوٹ کرتا ہوں جو گزشتہ 36 دن سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک حکومت 2 مزید مطالبات پورے نہیں کرتی۔ابھیجیت دیپکے نے مطالبہ کیا کہ پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے اور 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث پولیس افسران کیخلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت کے سامنے نہ جھکا جائے تو استعفیٰ لیا جا سکتا ہے اور جمہوریت میں ڈرنا نہیں چاہیے۔رہنما بھارتی کانگریس راہول گاندھی نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ نریندر مودی بھارت کا ماضی ہیں اور ماضی کبھی مستقبل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے سے جمہوریت کی جیت ہوئی۔عام آدمی پارٹی ترجمان کے مطابق یہ آئین، نوجوانوں اور ملک بھر کے عوام کی فتح ہے۔
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ یہ جمہوریت، امن، صبر اور استقامت کی فتح ہے، احتساب سے اصلاحات کی جانب پہلا قدم ہے، کاکروچ جنتا پارٹی اور جین زی کو مبارک ہو، تمام شہریوں کا شکریہ جنہوں نے ڈرنے کے بجائے ملک کے ہر کونے سے آواز بلند کی۔

