ڈرامن (رائٹرز/این آر کے) ناروے کے شہر ڈرامن میں خوفناک آتشزدگی کے باعث لکڑی سے بنے ایک ساتھ جڑے ہوئے 100 سے زائد گھر شعلوں کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئے، جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی ادارے آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں سے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شدید گرمی، تیز ہواؤں اور لکڑی سے تعمیر شدہ عمارتوں کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی، جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔
فائر بریگیڈ کے اہلکار آگ بجھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہے ہیں، جبکہ فضائی کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں، کیونکہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
نارویجیئن حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں، غیر معمولی گرم موسم اور آگ سے تحفظ کے محدود انتظامات کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیلی، جبکہ مقامی میڈیا اسے جدید تاریخ میں ناروے کی بدترین آتشزدگیوں میں سے ایک قرار دے رہا ہے۔

