’نِشو کے والد کی کھوپڑی پھاڑ دی‘،اعتراف کرنے والا بی جے پی حامی گرفتار

نئی دہلی( بھارتی میڈیا)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ احتجاج میں شریک لڑکی کے والد کو زخمی کرنے اور بعدازاں پوڈکاسٹ میں حملے کا مبینہ طور پر فخریہ اعتراف کرنے والے بی جے پی کے حامی اور ہندوتوا سے وابستہ سوَتنتر بھردواج کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

سوَتنتر بھردواج نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ طلبہ احتجاج کے دوران مظاہرین میں شامل ایک لڑکی کے والد سنجے آزاد پر حملے کے بعد اس کے خلاف دفعہ 307 عائد ہونے کے باوجود وہ پوری رات آزاد گھومتا رہا، حالانکہ 38 سالہ سنجے آزاد کو سر پر شدید چوٹ کے باعث 60 ٹانکے لگے تھے اور وہ موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔

23 جون کو درج ایف آئی آر کے مطابق سنجے آزاد اپنی 14 سالہ بیٹی نِشو کے ہمراہ احتجاج میں شریک تھے، جہاں بھردواج اور دو سے تین دیگر افراد نے انہیں ویڈیو بنانے پر سوال کیا۔ اس دوران تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوگیا اور سنجے آزاد کے مطابق ملزمان نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔

پولیس نے ابتدائی طور پر سوَتنتر بھردواج کے خلاف جان بوجھ کر زخمی کرنے اور راستہ روکنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

تاہم بدھ کو ایک پوڈکاسٹ کے دوران بھردواج نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ اس نے ’’نِشو کے والد کی کھوپڑی پھاڑ دی‘‘۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے جیل نہیں بھیجا گیا کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کپل مشرا اور چراغ پاسوان اس کے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں۔

پوڈکاسٹ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سنجے آزاد کی 14 سالہ بیٹی نِشو نے مدد کیلئےسوشل میڈیا پر اپیل کی۔جمعے کو بھیم آرمی، سی جے پی اور انڈین یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا، جس کے بعد پولیس نے بی جے پی کے حامی کارکن سوَتنتر بھردواج کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق جمعے کی سہ پہر بھردواج کو اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے حراست میں لیا گیا، جہاں وہ میڈیا کو انٹرویوز دے رہا تھا۔ اسے دہلی منتقل کرنے کے بعد ہفتے کی علی الصبح باقاعدہ گرفتار کرکے اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سنجے آزاد کے نئے طبی معائنے کے بعد مقدمے میں اقدامِ قتل کی دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ پولیس کے مطابق اگر طبی دستاویزات سے یہ ثابت ہوا کہ حملے میں تیز دھار ہتھیار استعمال کیا گیا تھا تو مقدمے میں متعلقہ دفعات کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔