اب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
ان دنوں یہی کیفیت ہے کہ عالمی، مقامی اور ذاتی حالات اتنے پریشان کن ہیں اور کسی وقت واقعی یہ جی چاہتا ہے کہ اب موت ہی آ جائے لیکن پھر یہ خوف بھی طاری ہوتا ہے کہ اپنا اعمال نامہ توسیاہ ہے۔ دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ کو کیا جواب دیں گے کہ قبر میں سوال و جواب تو ہوں گے یوں ہم ادھر کے رہے نہ ادھر کے اور اپنی ہی سوچوں میں غلطاں ہونٹ کاٹتے رہ جاتے ہیں، آج جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے تو بدھ کا روز ہے صرف دو روز باقی ہیں جب ہرمز میں بگڑتے حالات کے اثرات براہ راست ہماری ذات پر بھی پڑیں گے اور ایندھن کے نرخوں میں اضافہ کر دیاجائے گا اور یہ اضافہ کسی اصول کے بغیر ہوگا کہ عالمی مارکیٹ کے اثرات کا عذر لے کر حکومت خود اپنے خسارے میں بھی کمی کا ذریعہ پٹرولیم ہی کو بنائے گی اور لیوی میں اضافہ کیا جائے گا خوف یہ ہے کہ اس سارے عمل کے اثرات براہ راست ہم پر یعنی فکس آمدنی والے افراد پر مرتب ہوں گے اور ان کی آمدن پہلے سے بھی کم ہو جائے گی کہ ہر شے کی بڑھتی قیمت کے اثرات یہی ہوتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی تعجب کا باعث نہیں کہ یہ تو ہونا ہی ہے اورہو کر رہے گا کہ دجالی نظام کے سامنے ایران آخری رکاوٹ ہے اسے دور کرنا ضروری ہے کہ بتائے گئے حالات کے مطابق دجال ملعون کی آمد سے پہلے ہونے والی تین شکستوں میں یہ پہلی ہوگی۔ پھر دو مزید کے بعد دجال کی آمد، مہدی علیہ السلام کا ظہوراور کفار کا خاتمہ ہوگا جس کے بعد دنیا کو امن نصیب ہو جائے گا۔
آبناء ہرمز کے نام سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ نے مجھے نائن الیون کے دور میں پہنچا دیا ہے جب ٹوئن ٹاورز ایک گہری سازش کے تحت زمین بوس ہوئے۔ یہودیوں کے سواباقی اقوام اس آفت کا شکار ہوئیں اور ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ میں نے ٹوئن ٹاورز پر حملوں کی نشریاتی خبر شروع سے دیکھی کہ پہلے ایک جہاز اڑتا ہوا آکر اس عمارت سے ٹکراتا ہے اور اس کے بعد دوسرا جہاز بھی ٹکرا جاتا ہے۔ ویڈیو پر مشتمل یہ خبر کچھ دیر کے لئے چلائی گئی اور پھر ایک جہاز کا ٹکرانا باقی رہ گیا۔ تب خبروں میں بتایا گیا تھا کہ پہلے جہاز کی ویڈیو ٹوئین ٹاورز کے بالکل سامنے ایک ہوٹل میں مقیم ایک مسافر نے بنا کر ریلیز کی تھی۔
اس حملے اور نقصان کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب جانتے ہیں اور یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ اب تک جوبھی ہو رہا ہے اسی حملے کا سلسلہ ہے اور یہ سب امریکی ڈیپ سٹیٹ کے سو سالہ منصوبے کا حصہ ہے۔ آج کے حالات میں مجھے پھر سے وہ تحریر یاد آ رہی ہے جو 21ستمبر کو روزنامہ پاکستان کے پورے صفحے پر شائع ہوئی۔ یہ تحریر ایک سنجیدہ تر، ماہر اور بڑے دانشور کی تحریر ہے جو انہوں نے بڑی عرق ریزی سے لکھی اور ماخذ احادیث نبویؐ تھا۔ اس تحریر کے مطابق مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب زمینیں ریت سے سونا اُگلیں گی اور پھر ریت ہی میں آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں بنیں گی۔خطہ کے مسلمان امیر تر ہو جائیں گے تاہم ایمانی قوت کمزور ہو جائے گی اس کے بعد ہی زوال کا وقت شروع ہو گا اور کفار سے تین جنگیں ہوں گی۔ ان میں مسلمان ہار جائیں گے اور پھر دجال اور حضرت مہدی علیہ السلام کے معرکہ کے نتیجے میں مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور امامت کرائیں گے۔
قارئین! یاددہانی کے لئے پھر سے عرض کیا ہے کہ آج جو حالات خلیج میں ہیں ان کی نشاندہی چودہ سو سال سے پہلے ہو چکی ہوئی ہے دنیا نے دیکھا کہ اسرائیل نے غزہ پر بربادی نازل کی، لبنان میں دراندازی کی اسے کسی نے نہیں روکا، مظلوم مرد و خواتین اور بچے شہید ہوتے چلے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ سو سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہے اور برق مسلمانوں پر ہی گرتی ہے۔ ایران ایک بڑی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہے اور یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ ایران کی داخلی پالیسیوں کی وجہ سے ایران اب بتدریج تنہائی کا شکار ہوتا چلاجا رہا ہے تاہم ایرانی بدستور ثابت قدمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے تعاون سے مصالحت کا جو عمل شروع کرکے کامیابی حاصل کی تھی اور یادداشت معاہدہ ہو گیا تھا وہ بھی اب زمین بوس ہوگیا اور اب براہ راست لڑائی جاری ہے۔
اس حوالے سے یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ مسلم امہ کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، سب کو اتحاد پیدا کرکے دشمن کے سامنے دیوار بننا ہوگا، ورنہ حالات تو پیش گوئیوں اور خبردار کئے جانے والے پیغامات ہی کی طرف جا رہے ہیں ہم پاکستانیوں اور پاکستان کو بھی خود پر اور اپنے اقدامات پر نظر ڈالنا ہوگی کہ اتحاد مکمل ہے اور امریکی صہیونی بربریت کا مقابلہ کیاجا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اللہ کے کرم سے اسلامی دنیا میں واحد ایٹمی قوت کے حامل ملک ہیں، اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہماری قیادتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔ اندرونی حالات کو سچائی کے حوالے سے درست فرمائیں، دنیا کو نصیحت کرتے ہیں تو خود بھی عمل پیرا ہوں اپنے اندرونی امور کو بات چیت کے ذریعے مکمل طور پر درست کریں، تاکہ ملک کے اندر کوئی شورش نہ ہو اور ہم اپنے معاملات اتفاق رائے سے طے کر سکیں اور کرلیں!

