بارباڈوس (رائٹرز/اے ایف پی) ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز، المعروف سر گیری سوبرز، 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سر گیری سوبرز کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف غیرمعمولی بلے باز تھے بلکہ تیز اور اسپن بولنگ دونوں میں مہارت رکھتے تھے، جبکہ فیلڈنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کی بدولت نمایاں مقام رکھتے تھے۔
انہوں نے 1958ء میں پاکستان کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کو ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز میں تبدیل کیا، جو اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا۔ یہ عالمی ریکارڈ 36 برس تک برقرار رہا، جسے بعد میں ان کے ہم وطن برائن لارا نے توڑا۔
سر گیری سوبرز نے 1968ء میں ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور کی تمام 6 گیندوں پر 6 چھکے لگانے والے دنیا کے پہلے بلے باز ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
انہوں نے اپنے طویل بین الاقوامی کیریئر میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے 93 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں 57.78 کی اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے، جبکہ 26 سنچریاں اسکور کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مؤثر بولنگ سے 235 ٹیسٹ وکٹیں بھی حاصل کیں۔
سر گیری سوبرز نے 1965ء سے 1972ء تک 39 ٹیسٹ میچز میں ویسٹ انڈیز کی قیادت کی اور اپنی جارحانہ قیادت کے ذریعے ٹیم کو دنیا کی مضبوط ترین کرکٹ ٹیموں میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کرکٹ میں ان کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں 1975ء میں برطانیہ کی ملکہ نے انہیں نائٹ ہڈ کے اعزاز سے نوازا، جس کے بعد انہیں “سر” کے خطاب سے پکارا جانے لگا۔
سر گیری سوبرز کو کرکٹ کی ممتاز سالنامہ وزڈن نے بھی صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز، “وزڈن کرکٹرز آف دی سنچری” میں شامل کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد دنیا بھر سے سابق اور موجودہ کرکٹرز، کرکٹ بورڈز اور مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

