واشنگٹن/تہران(الجزیرہ، بین الاقوامی میڈیا)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجاویز کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ ایرانی حکام نے امریکی مطالبات کو ایران کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے اپنی نئی تجاویز میں بحری ناکہ بندی کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور اپنے جوہری پروگرام پر کنٹرول برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔دونوں ممالک کے مؤقف میں سختی کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور کسی فریق کے پیچھے ہٹنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال کے باعث امریکا کو بھی واضح حکمت عملی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر خلیجی خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، متحدہ عرب امارات نے دو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قطر نے اپنے سمندری علاقے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی مذمت کی ہے۔کویت نے بھی اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑنے لگے ہیں، برینٹ خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو کر 104.01 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں تناؤ کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں جنگ کے خلاف عوامی ردعمل بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

