ٹورنٹو(نمائندہ خصوصی) معروف سماجی و سیاسی شخصیت ناصر شاہ کی اہلیہ کے ایصالِ ثواب کیلئے رسمِ قل اور دعائیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ناصر شاہ نے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا ان کی اہلیہ کے انتقال پر جنازے، رسمِ قل اور دعائیہ تقریب میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
ناصر شاہ نے کہا کہ جس طرح آپ سب جنازے کے روز تشریف لائے، اسی طرح آج بھی آپ نے اپنی مصروفیات کے باوجود وقت نکالا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہر شخص اپنی زندگی میں مصروف ہے اور کام کے دنوں میں وقت نکال کر آنا آسان نہیں ہوتا، لیکن آپ سب نے اپنے کام چھوڑ کر جنازے میں شرکت کی، جس پر میں ایک بار پھر اپنی جانب سے، اپنے پورے خاندان، اپنے بچوں، بھائیوں، بہنوں، بھتیجوں اور بھانجوں کی طرف سے آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے اپنی مرحومہ اہلیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ میری رہنما رہیں۔ انہوں نے کبھی ایسا کوئی کام نہیں کیا جو میں نے نہ کہاہو۔ کبھی رات دو یا تین بجےگھرواپس آتاتوکہتیں کہ صرف پندرہ منٹپہلے بتانا آنے سے پہلےاور وہ میرے لئےتازہ روٹی بناتیں۔ اگر مجھے فجر کی نماز کے فورابعد جانا ہوتا تو وہ تازہ ناشتہ بھی تیار کرتیں۔
ناصر شاہ نے کہا کہ مرحومہ ان کے تمام کاروباری معاملات اور گھر کے انتظامات بھی سنبھالتی تھیں۔ ان کے مطابق ان کے ہاں بہت سے ملازمین ہیں اور وہ تمام امور کی نگرانی کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی باتوں کو بھلانا آسان نہیں کیونکہ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ بچپن ہی سے تہجد گزار تھیں۔ ان کے والد بھی ایک معروف مفتی عالم تھے۔ میری اہلیہ ان کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں اور بچپن ہی سے جب ان کے والد تہجد کیلئےاٹھتے تو وہ بھی ان کے ساتھ بیدار ہوتیں، تہجد ادا کرتیں اور پانچ وقت کی نماز کی پابند رہیں۔
ناصر شاہ نے کہا کہ کینیڈا آنے کے بعد بھی ان کی اہلیہ آن لائن قرآنِ کریم اور تجوید کی تعلیم دیتی تھیں۔ دنیا بھر میں تقریباً سات سے آٹھ سو خواتین ان کی شاگرد تھیں۔ وہ روزانہ ایک گھنٹہ تدریس کرتیں اور اس دوران سختی سے ہدایت دیتیں کہ اس ایک گھنٹے میں انہیں کوئی پریشان نہ کرے، باقی تمام وقت گھر والوں کیلئےہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی اس دوران انہیں فون کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ ان کا مقررہ وقت ہے۔
ناصر شاہ نے کہا کہ انسان کی زندگی میں بہت سی ایسی اچھی باتیں اور یادیں ہوتی ہیں جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا، اور ان کی اہلیہ سے وابستہ بھی بے شمار ایسی یادیں ہیں جنہیں وہ شاید پوری طرح بیان نہ کر سکیں۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے اپنا قیمتی وقت نکالا اور یہاں تشریف لائے۔ انہوں نے ادارہ منہاج القرآن کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس موقع پر سب کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا۔
آخر میں ناصر شاہ نے کہا کہ دعا کے فوراً بعد دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ کھانا محض تبرک کے طور پر رکھا گیا ہے، یہ لازمی نہیں، تاہم میں اپنے پورے خاندان سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ سب کھانا ضرور تناول کریں۔ آپ خواہ کمیونٹی کے افراد ہیں، لیکن میرے لیے آپ سب میرے خاندان کا حصہ ہیں، اس لیے میری گزارش ہے کہ کھانا ضرور کھائیں۔

