اسلام آباد(نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ وزارت سنبھالنے کے بعد وزیر خارجہ انیتا آنند کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات اور بعد ازاں تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات کے وسیع خدوخال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ روابط میں پیدا ہونے والی نئی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خطے میں جاری تنازع کے حوالے سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے بھی کینیڈا کی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس ثالثی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں فریقوں نے پائیدار جنگ بندی کی ضرورت اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور امن و خوشحالی کے فروغ کیلئےاپنے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں فریقوں نے فروری 2026ء میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ مشاورتی مذاکرات کے چھٹے دور کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کیا اور اس پلیٹ فارم کو مشترکہ ترجیحات کے فروغ اور تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئےاہم قرار دیا۔ دونوں وزراء نے اقتصادی، تعلیمی اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے ذریعے تعاون میں وسعت کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں وزراء نے کینیڈا میں مقیم تین لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور نو ہزار سے زیادہ پاکستانی طلبہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں، سیاحت اور دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کو مزید آسان بنانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے پارلیمانی روابط کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا اور اپنی اپنی پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ انیتا آنند نے تجارت اور سرمایہ کاری کو باہمی خوشحالی اور اقتصادی استحکام کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور فروغ کے معاہدے (FIPA) کی جانب ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ باقاعدہ رابطوں کے ذریعے مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ دونوں ممالک نے پاکستان۔کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزراء نے پاکستان میں کینیڈا کی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا اور صاف توانائی، کان کنی، اہم معدنیات، بنیادی ڈھانچے، زراعت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے ترجیحی شعبوں میں کاروباری روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے اقتصادی تعلقات کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے کیلئے مزید تجارتی وفود کے تبادلوں کا خیرمقدم کیا۔
توانائی کے تحفظ اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں وزراء نے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار اور بیٹری ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز سمیت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی حوصلہ افزائی پر اتفاق کیا۔ وزراء نے اس بات کا بھی نوٹ لیا کہ کینیڈا کی کمپنی جے سی ایم پاور (JCM Power) کی جانب سے 240 میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کیلئے جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے قائم کیا جا رہا ہے، کامیاب بولی کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری مل چکی ہے۔ اس بڑے منصوبے سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں اہم اضافہ ہوگا۔
دونوں وزراء نے خوراک کے تحفظ، غذائی رسد اور منڈی تک قابلِ اعتماد رسائی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس شعبے میں جاری تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے زراعت کے شعبے میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی، جس میں کینولا اور دیگر تیل دار اجناس، دالیں، سویابین، اناج، چاول، مصالحہ جات اور پھل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ زرعی غذائی ویلیو چین، زرعی ٹیکنالوجی، غذائی تحفظ، صحت و نباتات سے متعلق معیارات اور ضوابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ اسی جذبے کے تحت دونوں وزراء نے کینیڈا سے درآمد کیے جانے والے کینولا کے لیے صحتِ نباتات سے متعلق درآمدی شرائط کو قابلِ پیش گوئی بنانے کے لیے ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے۔ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی تکنیکی تعاون اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع کا بھی جائزہ لیں گی۔
دونوں وزراء نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پاکستان میں معدنی وسائل کی وسیع استعداد اور ذمہ دارانہ کان کنی میں کینیڈا کی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک نے کان کنی کی پوری ویلیو چین، بشمول معدنیات کی تلاش اور متعلقہ خدمات کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے کان کنی کی صنعت سے متعلق بین الاقوامی تقریبات میں باہمی شرکت کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو 2027ء میں کینیڈا میں منعقد ہونیوالی پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا (PDAC) کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس تعاون کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزراء نے علاقائی امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز، ان کے شہری آبادی اور معیشت پر اثرات، افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی سے لاحق مسلسل خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزراء نے انسداد دہشت گردی اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ انیتا آنند نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوام متحدہ، انٹرپول اور دیگر اداروں کے ذریعے مختلف منصوبوں کے تحت پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے عالمی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر خارجہ انیتا آنند نے تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور صحت کے شعبوں میں ترقیاتی معاونت کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا۔
دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دونوں ممالک کے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی مفادات کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں وزراء نے دوطرفہ روابط میں مزید اضافے کی امید ظاہر کی۔ دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطح کے روابط کو مسلسل جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون پر ہونے والی پیش رفت کا سالانہ جائزہ لیا جائے گا۔

