مسی ساگا(عرفان بابا ملک سے)پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ فوری طور پر کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم انہیں خطے کی سیاست میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہوئے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی تھی اور عالمی معیشت خصوصاً تیل کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار تھی۔
ان مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ فریقین، شدید اختلافات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ یہ بات خود اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک مکمل بند گلی میں نہیں بلکہ اب بھی سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں نمایاں رہا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا۔ اس سفارتی کوشش کو بعض حلقے پاکستان کی “بریج بلڈنگ ڈپلومیسی” قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی ہدف ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا، یورینیم افزودگی پر کنٹرول اور خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔ دوسری جانب ایران نے واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر مکمل پابندی یا اس کے خاتمے کو قبول نہیں کرے گا، اور اس کے قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، آبنائے ہرمز جیسے حساس مسئلے نے بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں پر۔
مذاکرات کے دوران اگرچہ بعض رپورٹس میں پیش رفت کے اشارے بھی ملے، حتیٰ کہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ فریقین کسی حد تک معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم باہمی عدم اعتماد اور بنیادی اختلافات کے باعث کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سب سے اہم عنصر اعتماد کا فقدان، جوہری پروگرام پر سخت اختلافات، اور خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق خدشات تھے۔ دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے، جس کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔
اس کے باوجود، یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ بلکہ سفارتی ذرائع کے مطابق مستقبل میں دوبارہ بات چیت کے امکانات موجود ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ خطے میں کشیدگی کسی بھی بڑے عالمی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اگر یہ سفارتی کوششیں دوبارہ شروع ہوتی ہیں تو ان کے عالمی سیاست، تیل کی قیمتوں اور علاقائی اتحادوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران ممکنہ طور پر چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا، جبکہ امریکہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ دباؤ کی حکمت عملی جاری رکھ سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات فوری کامیابی حاصل نہ کر سکے، تاہم انہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ خطے میں بڑے تنازعات کا حل صرف اور صرف سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔یہ عمل ناکامی کے باوجود ایک ایسی بنیاد ضرور فراہم کر گیا ہے جس پر مستقبل میں کسی ممکنہ امن معاہدے کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

