پاکستان میں بڑے ڈیجیٹل پروگرامز کو مزید وسعت دی جائے گی: گوگل

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے نئے دفتر کی بنیاد کی تختی کی نقاب کشائی کردی، گوگل نے پاکستان میں اپنی مقامی موجودگی کے بعد بڑے ڈیجیٹل پروگرامز کو مزید وسعت دینے اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے حکومت اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں گوگل کے دفتر کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور گوگل کے ساتھ شراکت داری کو مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کی سمت میں پیش رفت جاری ہے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کیا جارہا ہے۔

تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ اور امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔ گوگل کے وفد کی قیادت کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ برائے گلوبل افیئرز ولسن ایل وائٹ نے کی۔

گوگل کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ نے کہا کہ پاکستان میں مقامی دفتر کا افتتاح گوگل کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ گوگل گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف پروگرامز کے ذریعے کام کررہا ہے اور مقامی دفتر کا قیام کمپنی کی پاکستان کے ساتھ طویل مدتی وابستگی کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدی معیشت بنانے کا ہدف گوگل کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ گزشتہ 10 برس کے دوران گوگل نے پاکستان کے مقامی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے سے زائد کی معاشی سرگرمی میں کردار ادا کیا، جبکہ 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کی معاونت کی۔

ولسن وائٹ نے کہا کہ گوگل پاکستان کے آئی ٹی برآمدات کے ہدف میں تین طریقوں سے معاونت کرے گا، جن میں پاکستانی افرادی قوت میں سرمایہ کاری، ہارڈویئر کی تیاری اور برآمدی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور مقامی کاروباروں کی معاونت شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گوگل اب تک 10 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو کیریئر سرٹیفکیٹس اور اسکولوں و اساتذہ کے ساتھ مل کر مختلف تربیتی پروگرامز کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے میں معاونت کرچکا ہے۔

گوگل کے نائب صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان کے طلبہ کے لیے گوگل جیمنی کی سبسکرپشن ایک سال کے لیے مفت فراہم کی جائے گی، جس کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے بعد میں کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کی ٹیم اور پاکستانی حکام کو اس موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان اور گوگل کے درمیان شراکت داری کے لیے ایک شاندار دن اور طویل سفر کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا چاہتی ہے۔

گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی دفتر پاکستان میں ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں، ہارڈویئر مینوفیکچرنگ، مقامی کاروباروں اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ میں مزید تعاون کا مرکز بنے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گوگل کی مقامی موجودگی کے اعلان سے قبل کمپنی نے مقامی شراکت داروں کے ساتھ گوگل کروم بکس کی مقامی تیاری بھی شروع کی تھی، جبکہ حکومت کے مطابق ہری پور میں قائم اسمبلی لائن سے 2026 تک سالانہ 5 لاکھ کروم بکس تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کی جارہی ہے۔ گوگل پاکستان کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی بھی ملک میں کمپنی کے ڈیجیٹل پروگرامز اور مقامی موجودگی کے حوالے سے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔