پاکستان کی اصل طاقت عوام کی زندگیوں میں بہتری سے ظاہر ہوگی:قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا اصل مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے، ہر خاندان کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جبکہ کسان، مزدور، تاجر اور کاروباری افراد اعتماد کے ساتھ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکیں۔یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی طاقت کا اندازہ صرف معاشی یا دیگر اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ قومی ترقی کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگیوں میں کس قدر بہتری آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کا مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہونا چاہیے جہاں ہر خاندان کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہوں اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ فرد اپنے مستقبل کے حوالے سے پراعتماد ہوکر منصوبہ بندی کرسکے۔قونصل جنرل نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔خلیل احمد باجوہ نے تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ جس بھی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ملک کی ترقی، استحکام اور پیشرفت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اجتماعی کوششوں سے ملک کو مزید مضبوط اور خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔قونصل جنرل نے اپنے خطاب کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے، ملک میں امن و خوشحالی قائم فرمائے، اسے مزید مضبوط بنائے اور قوم کو روشن اور بہتر مستقبل کی جانب رہنمائی عطا فرمائے۔

ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ قونصلر التمش جنجوعہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام پڑھ کر سنایا

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں دیس اور پردیس میں مقیم تمام پاکستانیوں کو پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی پرخلوص اور دلی مبارکباد پیش کی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی صورت میں آزادی کی انمول نعمت عطا کرنے پر پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے جس کی قدر و حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کیلئے کی جانے والی جدوجہد اور اس میں حاصل ہونے والی کامیابی پوری قوم کیلئے فخر اور عزت کا مقام رکھتی ہے۔ تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہمارے نامور رہنماؤں نے انتھک جدوجہد کی اور قوم کو ایک آزاد وطن کے حصول کیلئے متحد کیا۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں تحریک پاکستان کے رہنماؤں اور ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے قیام پاکستان کیلئےقربانیاں دیں اور آزادی کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا۔

انسان نے دنیا پر محنت کی مگر خود پر محنت کرنا چھوڑ دیا:سعید انور

پاکستان کے سابق نامور کرکٹر سعید انور نے کہا ہے کہ انسان نے دنیا میں بڑی بڑی ترقی تو کرلی ہے لیکن خود پر محنت کرنا چھوڑ دیا ہے، شیطان کا پہلا فریب یہی ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے تو وہ خود کو بھی بھول جاتا ہے اور دوسروں پر تنقید کرنے میں لگ جاتا ہے۔پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید انور نے کہا کہ انسان کو سب سے پہلے اپنی اصلاح اور اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے، صرف دنیاوی ترقی انسان کو حقیقی کامیابی نہیں دے سکتی۔

انہوں نے قرآن کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی اصل کیفیت اس کے دل کی حالت سے طے ہوتی ہے، اگر دل، آنکھیں اور کان حقیقت اور عقل سے خالی ہوجائیں تو انسان کی حالت جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔سعید انور نے کہا کہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر کامل ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں بلکہ اس حقیقت کو دل کی گہرائیوں میں اتارنا ضروری ہے۔

جب کلمہ طیبہ کا یقین انسان کے دل میں راسخ ہوجاتا ہے تو اس کے کردار اور زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور انسان میں حقیقی انسانیت جنم لیتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ انسان کو دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح، کردار کی بہتری اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان کی تاریخ اس کے قیام تک محدود نہیں، عوام کے ساتھ آگے بڑھتی ہے: سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان

کینیڈین سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل پاکستان خلیل احمد باجوہ کو نئی قونصلیٹ کی منتقلی پر مبارکباد دی اور تقریب کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان نے کہا کہ 14 اگست 1947 کے 79 سال بعد بھی یومِ آزادی تمام پاکستانیوں اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی برادری کے لیے گہرے اور بامقصد معنی رکھتا ہے۔ یہ دن پاکستان کے قیام کی جدوجہد، اس سے وابستہ قربانیوں اور قومی شناخت کی یاد تازہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی تاریخ صرف اس کے قیام تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لوگوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ کینیڈا میں پرورش پانے والی نئی نسل کے لیے پاکستان ان کی ثقافتی میراث کا حصہ ہے، جسے وہ وقت کے ساتھ دریافت اور سمجھ رہی ہے۔کینیڈین سینیٹر نے قومی پرچم اور قومی ترانے سے اپنی ذاتی اور خاندانی وابستگی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی پرچم اور ترانے کی تاریخ اور ان میں شامل عناصر کی نظریاتی اہمیت ہر نسل کے لیے فخر اور جذباتی وابستگی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پروان چڑھنے والی پاکستانی نسل کے لیے اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستگی قائم رکھنا نہایت اہم ہے، کیونکہ یہی وابستگی انہیں اپنی تاریخ، شناخت اور ورثے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

یومِ آزادی صرف کیلنڈر کی تاریخ نہیں، آباؤ اجداد کی قربانیوں اور قومی فخر کو یاد کرنے کا دن ہے: شفقت علی

کینیڈین رکن پارلیمنٹ اور ٹریژری بورڈ کے صدر شفقت علی نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومِ آزادی صرف کیلنڈر کی کوئی عام تاریخ نہیں بلکہ اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں، ثقافت اور قومی فخر کو یاد کرنے اور ان کی اقدار کو آگے بڑھانے کا دن ہے۔شفقت علی نے تقریب میں شریک اراکین پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد، اقراء خالد اور مائیکل کوٹو، سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان اور رکن صوبائی اسمبلی اینڈریو کا خصوصی موقع پر شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ، ان کی ٹیم اور تقریب کے انتظامات میں معاونت کرنے والے افراد کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کمیونٹی کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے شاندار تقریب کے انعقاد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔کینیڈین رکن پارلیمنٹ نے اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے سیکھی گئی اقدار ان کی شخصیت کا اہم حصہ ہیں اور انہیں اپنے پاکستانی ورثے پر بے حد فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے دیں۔ یہ دن اپنی ثقافت، تاریخ اور قومی شناخت سے وابستگی کو تازہ کرنے اور آنے والی نسلوں تک ان اقدار کو منتقل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

پاکستان اور کینیڈا مشترکہ اقدار کے حامل ہیں: اقراء خالد

ایرن ملز سے رکن پارلیمنٹ اقراء خالد نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا بہت سی مشترکہ اقدار کے حامل ہیں، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اقراء خالد نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منا رہی ہیں، تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ یومِ آزادی کا حساب کس طرح کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر خوش گوار انداز میں حاضرین سے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے دیے گئے اصول اتحاد، ایمان اور تنظیم آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول پاکستان اور کینیڈا میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔اقراء خالد نے کہا کہ ہماری جدوجہد صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے بھی ہے۔ ہمیں مل کر ایک مضبوط معاشرہ اور مضبوط قوم کی تعمیر کرنی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے بانیوں کے دیے گئے اسباق سے رہنمائی حاصل کریں اور انہیں اپنی عملی زندگی میں آگے بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں تجارتی روابط کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے قیام اور مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعاون کو مزید بڑھایا جانا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کیلئےنئے مواقع پیدا ہوں۔اقراء خالد نے کہا کہ ہمیں اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان کی آنے والی نسلیں دنیا کی بہتری کیلئےاپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہیں، جیسا کہ پاکستانی کمیونٹی پہلے ہی مختلف شعبوں میں مثبت کردار ادا کررہی ہے۔

پاکستان نے آزادی بہت قربانیوں کے بعد حاصل کی: سلمیٰ زاہد

کینیڈین رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا، 14 اگست ہمیں ان لوگوں کی قربانیوں اور امنگوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔سلمیٰ زاہد نے ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کو ایک جگہ جمع کرکے یومِ آزادی کی شاندار تقریب کا اہتمام کیا اور کینیڈا میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کینیڈا بھر میں مقیم پاکستانی نژاد کینیڈینز اور دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ مل کر پاکستان کا یومِ آزادی مناتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے۔ 14 اگست ہمیں ان قربانیوں اور امنگوں کو یاد دلاتا ہے جن کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا، جبکہ امید، مواقع اور کمیونٹی کی اقدار آج بھی آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔سلمیٰ زاہد نے اردو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا۔ انہوں نے اپنی نانی کی تقسیم ہند کے وقت کی یادیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں وہ اپنی نانی سے تقسیم کے واقعات کی کہانیاں سنتی تھیں۔

ان کی نانی ہمیشہ انہیں یاد دلاتی تھیں کہ آزاد ملک میں سانس لینے کی قدر وہی لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے غلامی اور تقسیم کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں۔انہوں نے کہا کہ تقسیم کے دوران لوگوں نے بھارت سے پاکستان اور پاکستان سے بھارت ہجرت کی اور اس میں بے شمار مشکلات اور قربانیاں برداشت کرنا پڑیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد گزرنے والے 79 سال بھی آسان سفر نہیں تھے، قوم نے اس دوران مختلف چیلنجز کا سامنا کیا۔کینیڈین رکن پارلیمنٹ نے اپنے والد اور بھائی کے فوجی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک فوجی افسر کی بیٹی اور بہن ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ملک کیلئے دی جانے والی مسلسل قربانیوں پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔سلمیٰ زاہد نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کیلئےامید، اتحاد اور قومی ذمہ داری کے جذبے کو بھی مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

پاکستانی کینیڈین کمیونٹی فلاحی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے: سٹیفنی بومن

ڈان ویلی ویسٹ سے رکن صوبائی اسمبلی سٹیفنی بومن نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کیں۔سٹیفنی بومن نے اپنے خطاب کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’یومِ آزادی مبارک‘‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پروقار تقریب میں شرکت پر خوشی ہے۔ انہوں نے ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ کا تقریب میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا اور بونی، اینڈریو سمیت دیگر ساتھیوں کی موجودگی کا بھی خیرمقدم کیا۔

انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات اور قومی میراث کو سراہا۔ انہوں نے قائداعظم کے رہنما اصول ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصول آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔سٹیفنی بومن نے ڈان ویلی ویسٹ، تھارن کلف پارک، ڈان ویلی ایسٹ اور فلیمنگڈن پارک میں آباد پاکستانی کینیڈین کمیونٹی کو خوش آمدید کہا اور ان کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کینیڈین کمیونٹی کے افراد فوڈ بینکس، فلاحی اداروں اور مختلف رضاکارانہ سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کے یہ افراد ضرورت مندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کینیڈین معاشرے کو مضبوط بنانے میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کی محنت، خدمت اور جذبۂ رضاکارانہ کینیڈا کے لیے قابلِ قدر ہے اور یومِ آزادی کا موقع دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور باہمی احترام کو مزید مضبوط بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔

پاکستانی کمیونٹی نے کینیڈا کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا:بونی کرومبی

اونٹاریو لبرل پارٹی کی رہنما بونی کرومبی نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی نے کینیڈا بالخصوص مسی ساگا کی معاشی اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔بونی کرومبی نے پاکستان کے یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ کو تقریب کی میزبانی اور نئی قونصلیٹ کے مقام پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ 14 اگست ان کے کیلنڈر کا ایک خاص دن ہے جو انہیں فخر کا احساس دلاتا ہے۔

یہ دن پاکستان کے قیام کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ایمان، اتحاد اور تنظیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ اقدار ہیں جو پاکستان اور کینیڈا کے درمیان مشترک ہیں۔بونی کرومبی نے کہا کہ ان کے آبائی شہر مسی ساگا میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے اور ایرن ملز سمیت پورے مسی ساگا میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنی محنت اور خدمات کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق رکن پارلیمنٹ، کونسلر، ایک دہائی تک میئر اور اونٹاریو لبرل پارٹی کی رہنما کی حیثیت سے مختلف ادوار میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز رہا ہے۔

پاکستانی نژاد کینیڈین کاروباری افراد، پیشہ ور افراد، عوامی خدمت گار اور منتخب نمائندے کینیڈا کی معیشت اور معاشرے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔اونٹاریو لبرل پارٹی کی رہنما نے پاکستانی کمیونٹی کی سماجی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جب بھی معاشرے میں مدد کی ضرورت پیش آئی، پاکستانی کمیونٹی ہمیشہ آگے بڑھی۔ ہسپتالوں، فوڈ بینکس اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے پاکستانی کمیونٹی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مسی ساگا جیسے شہروں کو مضبوط اور متحرک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی نے کینیڈا کو اپنا گھر بنایا اور ملک کی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالا ہے۔

پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دیرینہ دوستی اور مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے باہمی روابط کا مظہر ہیں۔بونی کرومبی نے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ کو نئی قونصلیٹ کے مقام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے یومِ آزادی کا جشن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بھی موقع ہے۔انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے سے کیا اور تقریب میں مدعو کرنے پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

مسی ساگا ایرن ملز میں پاکستانی کمیونٹی سب سے بڑی آبادی ہے: شریف صباوی

مسی ساگا ایرن ملز سے رکن صوبائی اسمبلی شریف صباوی نے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور کہا ہے کہ مسی ساگا ایرن ملز میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے، جبکہ ملٹن میں آباد پاکستانی کمیونٹی دراصل ایرن ملز کی آبادی کا پھیلاؤ ہے۔شریف صباوی نے بونی کرومبی کے خطاب کے حوالے سے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ اس بات سے اختلاف کریں گے کہ پاکستانی کمیونٹی کی سب سے بڑی آبادی ملٹن میں ہے، ان کے خیال میں مسی ساگا ایرن ملز میں پاکستانیوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملٹن دراصل ایرن ملز کی آبادی کا پھیلاؤ ہے، جب پاکستانی کمیونٹی کو ایرن ملز میں جگہ نہیں ملتی تو وہ ملٹن کا رخ کرتی ہے، تاہم پاکستانیوں کی پہلی پسند ہمیشہ مسی ساگا ایرن ملز ہی رہتی ہے۔شریف صباوی نے کہا کہ انہیں تقریب میں مدعو کیے جانے پر خوشی ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ یومِ آزادی کی خوشیاں منانا ان کیلئے ہمیشہ باعثِ مسرت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خود ایک تارک وطن ہونے کے ناطے وہ اس جذبہ حب الوطنی اور اپنی جڑوں سے وابستگی کے احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ اپنی شناخت، ثقافت اور آبائی وطن سے محبت بیرون ملک آباد کمیونٹی کیلئے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔تقریب کے دوران ملٹن سے ایم پی پی زی حامد نے بھی اپنے اختتامی کلمات میں اللہ تعالیٰ سے اونٹاریو کے عوام، پاکستان کے عوام اور کینیڈا کے عوام کیلئےرحمت اور برکت کی دعا کی اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔

یومِ آزادی کی تقریب کے انعقاد پرقونصل جنرل خلیل احمدباجوہ کاشکریہ اداکرتاہوں: پال چیانگ

پاکستانی نژاد کینیڈین پال چیانگ نے کہا ہے کہ وہ مارکھم کی ریجنل کونسل کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ مارکھم میں مقیم ان کے رشتہ دار اور دوست انہیں حمایت اور ووٹ دیں۔پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر ٹورنٹو میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پال چیانگ نے بتایا کہ ان کی پیدائش کراچی کے علاقے طارق روڈ میں ہوئی۔

انہوں نے کراچی سے میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کینیڈا ہجرت کی اور انہیں کینیڈا میں رہتے ہوئے تقریباً 50 سال ہوچکے ہیں۔پال چیانگ نے اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ بھی چینی نژاد پاکستانی ہیں اور ان کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی۔ ان کے تین بچے اور چھ پوتے پوتیاں ہیں، جو سب کینیڈا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی سب سے بڑی پوتی 17 سال کی ہے اور جلد یونیورسٹی میں تعلیم کے لیے جائے گی۔انہوں نے یومِ آزادی کی تقریب کے انعقاد پر ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ اور قونصلیٹ کے عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

پال چیانگ نے اعلان کیا کہ وہ مارکھم کی ریجنل کونسل کے انتخاب میں امیدوار ہیں۔ انہوں نے تقریب میں موجود افراد سے اپیل کی کہ مارکھم میں مقیم ان کے رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں تک ان کا پیغام پہنچائیں اور انہیں انتخاب میں حمایت اور ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کی حمایت ان کیلئےاہمیت رکھتی ہے اور وہ انتخابی عمل میں کمیونٹی کی بھرپور شرکت کے خواہاں ہیں۔