پنجاب میں کرپشن؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے محکموں،ڈویزنوں اور اضلاع میں مجموعی طور پر اچھے افسران سیکرٹری، کمشنر،ڈپٹی کمشنر،آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے طور پر انتظامی سربراہ ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اکثر دفاتر میں کام رشوت یا سفارش کے بغیر نہیں ہوتا،اسی لئے چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہےاور اس سلسلے میں اینٹی کرپشن کو فری ہینڈ دے دیا گیا ہے ، پولیس ا و ریونیو جیسے محکموں پر خصوصی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے ، محکمانہ سربراہوں کو صاف الفاظ میں پیغام دیا گیا ہے کہ پہلے وہ خود اپنے اداروں میں کرپشن روکیں، بصورت دیگر اینٹی کرپشن میدان میں اترے گی،یہ فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن پنجاب کے شہریوں کے ذہن میں فوراً ایک سوال پیدا ہوتا ہے، کیا اس مرتبہ واقعی کچھ بدلے گا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پنجاب میں کرپشن کیخلاف کارروائی کوئی نئی بات نہیں گرفتاریاں بھی ہوئیں اور مقدمات بھی درج ہوئے، مگر اس سب کے باوجود عام شہری کے تجربے میں کرپشن ختم نہیں ہوئی،اس مرتبہ اگر واقعی اینٹی کرپشن کو فری ہینڈ دیا گیا ہے تو پھر اس کا امتحان بھی بہت سخت ہوگا۔

پنجاب کے دو محکموں پولیس اور ریونیو پر خصوصی نظر رکھنے کا فیصلہ شاید اس لیے کیا گیا ہے کہ عام آدمی کا سب سے زیادہ واسطہ بھی انہی اداروں سے پڑتا ہے،پولیس شہری کی جان و مال، مقدمے، ایف آئی آر، تفتیش اور انصاف کے ابتدائی مرحلے سے متعلق ہے، جبکہ ریونیو کا محکمہ زمین، جائیداد، انتقال، فرد اور ریکارڈ جیسے معاملات دیکھتا ہے، ایک عام شہری کے لیے یہ دونوں محکمے اس کی زندگی کے انتہائی اہم معاملات سے جڑے ہوئے ہیں،بدقسمتی سے جہاں اختیار زیادہ ہو، فیصلے کا اختیار کسی فرد کے ہاتھ میں ہو اور نگرانی کمزور ہو، وہاں کرپشن کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں،ایک شہری اگر تھانے میں اپنی جائز درخواست لے کر جائے تو اسے یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ کام قانون کے مطابق ہوگا یا ’’خرچہ پانی‘‘ دینے کے بعد، اسی طرح زمین کا انتقال، فرد یا ریکارڈ کی درستگی کوئی ایسا کام نہیں ہونا چاہیے جس کے لیے شہری کو دفتر کے چکر لگانے اور کسی اہلکار کی مٹھی گرم کرنے کی ضرورت پڑے،یہی وہ جگہ ہے جہاں حکومت کی حالیہ پالیسی کا اصل امتحان ہوگا۔

اس اجلاس کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ محکموں کے سربراہوں کو بھی ان کی ذمہ داری یاد دلائی گئی ہے، اگر کسی محکمہ میں ایک اہلکار رشوت لیتا ہے تو صرف اسی اہلکار کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں، سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ اہلکار کتنے عرصے سے یہ کام کر رہا تھا؟ اس کے افسر کہاں تھے؟ شکایات کس کے پاس پہنچیں؟ نگرانی کا نظام کیوں ناکام ہوا؟ اور اگر کسی افسر کے بارے میں مسلسل شکایات تھیں تو اسے اہم پوسٹنگز کیسے ملتی رہیں؟کسی بھی ادارے میں کرپشن اچانک پیدا نہیں ہوتی، عموماً یہ آہستہ آہستہ جڑ پکڑتی ہے، پہلے ایک اہلکار چھوٹی رقم لیتا ہے، پھر اسے یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کے بعد رقم بڑھتی ہے، پورا نیٹ ورک بنتا ہے اور بالآخر کرپشن ایک ’’سسٹم‘‘ بن جاتی ہے۔

یہاں اینٹی کرپشن کا ذکر آئے اور اس کے ماضی کی بات نہ ہو تو تصویر مکمل نہیں ہوتی،ایک وقت تھا جب پنجاب میں اینٹی کرپشن کو طنزیہ طور پر ’’آنٹی کرپشن‘‘ کہا جاتا تھا، یہ محض ایک لفظ نہیں تھا بلکہ عوام کے اندر پیدا ہونے والے اس تاثر کی علامت تھا کہ جس ادارے کا کام کرپشن ختم کرنا ہے، اس کے بعض اہلکار ہی مبینہ طور پر کرپٹ افسروں سے معاملات طے کر لیتے ہیں،یعنی ایک شہری پہلے سرکاری دفتر میں مبینہ کرپشن کا شکار ہوتا، پھر انصاف کی امید لے کر اینٹی کرپشن پہنچتا اور وہاں بھی اسے کسی نہ کسی ’’انتظام‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا،اگر کسی ادارے کے بارے میں ایسا تاثر پیدا ہو جائے تو اس سے زیادہ خطرناک صورتحال کوئی نہیں، کیونکہ کرپشن صرف پیسہ لینے سے نہیں بڑھتی، کرپشن اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام کا قانون اور احتساب کے اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،اسی لیے موجودہ اینٹی کرپشن قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف کرپٹ افسران کو پکڑنا نہیں بلکہ اپنے ادارے کی ساکھ بحال کرنا بھی ہے۔اینٹی کرپشن کے موجودہ سربراہ کا تعلق پولیس سے ہے، اس پس منظر کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ پولیس کے اندرونی نظام، اس کے طریقہ کار اور فیلڈ کی مشکلات سے واقف شخص شاید ان خامیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکے جو باہر سے دیکھنے والے کے لیے اتنی واضح نہیں ہوتیں۔

پنجاب میں احتساب کی ایک پرانی کمزوری یہ رہی ہے کہ اکثر کاروائی نیچے سے شروع ہوتی ہے اور اوپر پہنچنے سے پہلے رک جاتی ہے،ایک پٹواری پکڑا جاتا ہے، لیکن یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ اس کے پیچھے کون تھا،ایک اہلکار رشوت لیتا پکڑا جاتا ہے، مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اسے کس نے تحفظ فراہم کیا،ایک تھانے میں کرپشن کی شکایت سامنے آتی ہے، مگر یہ نہیں پوچھا جاتا کہ متعلقہ افسر کو اس کا علم کیوں نہیں تھا ،یہ بات بھی حکومت کو سمجھنا ہوگی کہ کرپشن کے خلاف جنگ صرف چھاپوں، گرفتاریوں اور مقدمات سے نہیں جیتی جا سکتی،اصل حل نظام کو ایسا بنانا ہے جہاں رشوت لینے کی گنجائش ہی کم سے کم رہ جائے، دوسری طرف ایماندار افسر کو خوفزدہ نہیں، بااختیار کرنا ہوگا ، احتساب کے نام پر پوری بیوروکریسی کو خوفزدہ کرنا بھی درست حکمت عملی نہیں،ایک ایماندار افسر کو فیصلہ کرنے کا اختیار اور اعتماد ملنا چاہیے،اگر ہر انتظامی فیصلہ کرنے والا افسر یہ سوچنے لگے کہ کل اسے کسی شکایت پر اینٹی کرپشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو وہ فیصلے کرنے سے گریز کرے گا،اب اینٹی کرپشن کو بھی خود احتسابی کرنا ہوگی،اینٹی کرپشن کو فری ہینڈ دینے کے ساتھ ایک اور فری ہینڈ بھی ضروری ہے، اس ادارے کی اپنی نگرانی،اینٹی کرپشن میں آنے والی شکایات کا کیا ہوا؟ کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں؟ کتنے مقدمات درج ہوئے؟ کتنے کیس عدالتوں تک پہنچے؟ کتنے مقدمات میں ملزمان کو سزا ہوئی؟ کتنے کیس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ختم ہوئے؟

پنجاب حکومت کا حالیہ فیصلہ اسلئے اہم ہے کہ اس میں صرف اینٹی کرپشن کو متحرک کرنے کی بات نہیں بلکہ محکموں کے سربراہوں کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے،یہ ایک درست سمت ہے،لیکن پنجاب میں ایسے اعلانات پہلے بھی بہت ہوئے ہیں،اسلئےاس مرتبہ عوام الفاظ نہیں، نتائج دیکھنا چاہیں گے،وہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا تھانے میں جائز کام کیلئے رشوت دینا واقعی کم ہوگا؟کیا ریونیو دفتر میں شہری کا کام سفارش کے بغیر ہوگا؟کیا کرپٹ اہلکار کے ساتھ اس کا سرپرست بھی پکڑا جائے گا؟کیا بڑے افسر اور چھوٹے ملازم کیلئےقانون ایک جیسا ہوگا؟اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اینٹی کرپشن خود بھی کسی دباؤ، سفارش اور مصلحت کے بغیر کام کر سکے گی؟اگر ان سوالات کا جواب عملی طور پر ’’ہاں‘‘ میں آنے لگا تو پنجاب میں واقعی ایک تبدیلی شروع ہو سکتی ہے۔