”پولیس گروی“ اور یاد ماضی!

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ویڈیو بہت دیکھی جا رہی ہے۔ اس میں پولیس کے کئی بہادر جوان ایک سفید پوش نوجوان کی زبردست پٹائی کرتے ہوئے اسے گھسیٹ کر لا رہے ہیں پس منظر میں آوازیں آ رہی ہیں کہ یہ سیاسی کارکن نہیں ٹی وی رپورٹر ہے، شیر جوانوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا اور بدستور: ہورا مکی: کرتے ہوئے اسے پریژن وین میں ڈال دیتے ہیں، اتنی دھنائی کے بعد اسے وین میں بند ہو کر سکون ملا،یہ ویڈیو5اگست کو تحریک انصاف کے احتجاج اور ایوان عدل کے علاقے کی ہے۔ اس ”پولیس گردی“ پر احتجاج بھی سوشل میڈیا پر ہی کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف نے تو بدستور قانون کی حکمرانی اور آئینی انسانی حقوق کا سوال اٹھایا ہے۔دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لئے اجتماع کرنا یا جلوس نکالنا جرم ہے، اس واقع کی اس حد تک ہی ویڈیونشر ہوئی اور اب ٹھنڈ ہی ٹھنڈ ہے۔ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ جس نوجوان کی پٹائی کی ویڈیو تھی او راسے ٹی وی رپورٹر کہا گیا تھا،اس کا بعد میں کیا ہوا کہ پریژن وین میں ڈال کر لے جانے کا مطلب تو یہ ہے کہ اسے دفعہ 144کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا اور یہ جرم 188تعزیرات پاکستان کا بنتا ہے جو قابل ضمانت ہے اب کئی روز گزر گئے یہ وضاحت ہوجانا چاہیے تھی کہ اس ”پولیس گردی“ پر اسلام آباد سے سینئر اور مستند صحافیوں نے بھی احتجاج کیا تھا، تاہم کوئی خبر نہیں جس کامطلب ہے کہ اب راوی چین لکھتا ہے کہ مذکورہ مظلوم اب ٹی وی صحافی ہی گردانا جائے گا کہ تردید نظر نہیں آئی لیکن حیرت انگیز طور پر صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کی طرف سے احتجاج نظر نہیں آیا،اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ متاثرہ نوجوان ثقہ صحافی تو نہیں تھا، ممکن ہے کہ ”سوشل میڈیا والا صحافی“ ہو اور شوق میں پکڑا گیا ہو۔

بہرحال اس ویڈیوکو دیکھ کر مجھ پر نسٹلیجیا کا دورہ پڑ گیا اور ایک دم ماضی میں چلا گیا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ پولیس کی طرف سے جو کچھ ہوا اور ہوتا رہے گا یہ ان کیلئے معمول کی بات ہے کہ یہ اب سے نہیں، گوروں کے راج سے ہوتا چلا آیا ہے۔ 1947ء کے اوائل میں جب سول نافرمانی اور قیام پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو باغ بیرون موچی دروازہ سے نکلنے والے احتجاجی جلوسوں کو پنجاب اسمبلی جانے سے روکنے کیلئے ریگل چوک پر مورچہ بندی ہوتی تھی۔ جلوس کو اسی جگہ روکا جاتا اور جب پرجوش نعروں والے آگے بڑھتے تو لاٹھیاں برستیں اور آنسو گیس پھینکی جاتی، یوں تصادم تو کیا ہوتا شرکاء کو آنکھوں کی پڑ جاتی اور بعد میں گھر آکر لاٹھی والی چوٹوں کے نشان بھی سہلائے جاتے جن کے سر پھٹتے ان کا خون تو موقع پر روکنے کا انتظام کرلیا جاتا، تاہم بعد میں ڈاکٹر کی ضرورت لازم ہوتی۔ تو قارئین! ”پولیس گردی“پر تو تعجب غیر ضروری ہے کہ یہ سب ان کو ورثے میں ملا ہے اور یہ سلسلہ پیچھے سے چلا آ رہا ہے جیسے پنجابی کہاوت کے مطابق باجماعت نماز کے دوران آخری صف سے کسی شوخے نے شرارت کی،وہ اگلی صف اور پھر چلتے چلتے امام صاحب تک پہنچ گئی تو انہوں نے پچھلی صف والوں پر غصے کا اظہار کیا وہ بولے! مولوی صاحب (معاف کیجئے یہ پرانے دور کی بات ہے جب عالم کو بھی مولوی ہی کہاجاتا تھا) میرا قصور نہیں یہ پیغام تو پیچھے سے آیا ہے۔سومہربانو! یہ سلسلہ ہائے دہشت گردی بھی پیچھے ہی سے آیاہے۔

اب میں آپ کو یاد ماضی کی بات بتاتا ہوں، جس کیلئےاتنی تمہید باندھی ہے، یہ ”فیلڈ مارشل“ ایوب خان کے خلاف طلباء تحریک کا دور تھا۔ نیلا گنبد سے جلوس نکل کر فیصل چوک تک آتے۔ معمول کے مطابق پولیس روکتی،ٹکراؤ ہوتا اور پھر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور جوابی پتھراؤ کا سلسلہ شروع ہو جاتا، تب کے دور میں آج کے ڈیجیٹل کیمرے نہیں تھے، یوشیکا ہوتے تھے اور تصاویر ذرا قریب سے لی جاتی تھیں، ہمارے (امروز) فوٹو گرافر خواجہ قیوم، ایف۔ ای۔ چودھری اور یعقوب بھٹی (مرحومین) تھے۔ خواجہ قیوم خوبصورت قدآور گورے چٹے اور پڑھے لکھے تھے، چنانچہ تہذیب کا دامن تھامے رہتے لیکن پولیس کو کیاغرض وہ تو تصویر بنتے دیکھ کر ادھر بھی ہاتھ چلا دیتی اور پھر ہم شدید احتجاج کرتے ان دنوں ہماری ٹریڈ یونین بہت مضبوط تھی۔احتجاج کا اثر ہوتا تھا، تب لاہور میں ایس ایس پی (آج کے سی پی او) الحاج حبیب الرحمن تھے جو بڑے روشن خیال اور غیر ملک سے بھی تربیت یافتہ تھے۔ (الحاج حبیب الرحمان بعد میں ترقی کر کے انسپکٹر جنرل بھی ہوئے اور پولیس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اب دنیا میں نہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے) ان کے ہم اخبار نویسوں سے تعلقات بہت اچھے تھے چنانچہ احتجاج پر ان سے ملاقات ہوئی۔ خواجہ قیوم خصوصی طور پر اس میں شریک تھے اور احتجاج میں شامل تھے۔ بڑی بحث کے بعد الحاج حبیب الرحمن نے تجویز دی کہ جب ہجوم ہوتا ہے تو پولیس والوں کو بالکل علم نہیں ہوتا کہ کون جلوس والا اور کون صحافی ہے اس لئے بہتر ہے کہ صحافی بازو پر بینڈ باندھا کریں تاکہ غلط فہمی نہ ہو، خواجہ قیوم اس پر مطمئن اور خوش ہوئے اور ملاقات ختم ہوگئی۔ اگلے روز وہ کالے بینڈ لے کر آ گئے جن پر ”جرنلسٹ“ بھی لکھا تھا، جب انہوں نے خود بازو پر باندھ کر ہمیں بھی دیئے تو میں نے انکار کر دیا، میرا موقف تھا کہ پولیس والے صحافیوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے انداز و اطوار سے بھی ظاہر ہوجاتا ہے چنانچہ وہ سبق سکھانے کیلئےایسا کرتے ہیں۔ فوٹوگرافر کی نشانی توان کا کیمرہ ہوتا ہے، خواجہ صاحب نہ مانے۔ ہم نے بینڈ نہ باندھے وہ باندھ کر گئے اور پھر وہی ہوا کہ وہ لاٹھی چارج کی زد میں آکر کیمرہ تڑوا بیٹھے اور دفتر آکر بازو بھی سینکتے رہے۔ تو قارئین! یہ جو پولیس گردی ہے اس کے پیچھے ان کی وردی (قانون اور اقتدار کی طاقت) ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ اپنا بچاؤ خود کیا جائے۔

مجھے یہ سب اس لئے یاد آیاکہ عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں، نہ تو ہم بدلے نہ وہ بدلے ہیں اور یاد آیا ”وقت نے کیا یہ کیسا ستم، تم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم“ چنانچہ گلہ اور شکوہ کس سے یہاں تو نظام کو خراب تر کہہ کر وضاحت کر دی جاتی ہے کہ یہ چھ دہائیوں سے ہے یوں اگر پولیس گردی بھی ہے تو برداشت کریں۔ یاد آیا کہ ہمارے اس ”دقیانوسی“ دور میں اتنا تو ہوتا کہ کوئی جرم مسلسل فالو اپ سے خالی نہ ہوتا اور انجام تک خبر چلتی آج یہ عالم ہے کہ جلد ہی آئی گئی ہو جاتی ہے،کیا آ پ بتا سکتے ہیں کہ غیر ملکی دو عورتوں کے کیس کی کیا پوزیشن ہے اور اب تھانہ غازی آباد کی واردات کس حد تک انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے؟۔