پی ایچ ڈی کا خواب لیکر امریکا جانیوالی بنگلادیشی طالبہ تابوت میں وطن روانہ

ڈھاکا/فلوریڈا ( بنگلادیشی میڈیا، امریکی میڈیا)امریکا میں گزشتہ ماہ قتل ہونے والے دو بنگلادیشی پی ایچ ڈی طلبہ میں شامل طالبہ ناہیدہ سلطانہ برسٹی کی میت تابوت میں بنگلادیش روانہ کر دی گئی۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ناہیدہ سلطانہ کی میت جمعرات کی شب امریکی ریاست فلوریڈا سے اماراتی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے دبئی روانہ کی گئی، جہاں سے میت ڈھاکا پہنچے گی۔

رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی میت ہفتے کی صبح 8 بجکر 40 منٹ پر حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کی توقع ہے۔میامی میں قائم بنگلادیشی قونصل خانے کے ایک نمائندے نے اورلینڈو ایئرپورٹ پر موجود رہ کر میت کی وطن واپسی کے تمام مراحل کی نگرانی کی۔

27 سالہ جمیل احمد لیمون اور ناہیدہ سلطانہ برسٹی 16 اپریل سے لاپتا تھے۔ جمیل لیمون کو آخری بار اُس رہائشی کمپلیکس میں دیکھا گیا تھا جہاں وہ قتل کے مرکزی ملزم 26 سالہ حشام ابو غربیہ اور ایک دوسرے روم میٹ کے ساتھ رہتے تھے۔

تفتیش کاروں نے موبائل فون لوکیشن اور گاڑیوں کی نگرانی کے ڈیٹا کی مدد سے ملزم کی گاڑی اور جمیل لیمون کے فون کو اُس پل تک ٹریس کیا جہاں 24 اپریل کو ان کی لاش ملی تھی۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق مقتول کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم تھے جبکہ انہیں باندھے جانے کے شواہد بھی ملے۔

یکم مئی کو پولیس نے دوسری لاش کی شناخت ناہیدہ سلطانہ برسٹی کے طور پر کی، بعد ازاں خصوصی ٹیم نے مرکزی ملزم کو اس کے والدین کے گھر سے گرفتار کر لیا، عدالت نے ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب مقتول طالب علم جمیل احمد لیمون کو 4 مئی کو بنگلادیش کے ضلع جمال پور کی مدرگنج تحصیل میں سپرد خاک کر دیا گیا، ان کی میت اسی روز وطن پہنچی تھی۔