پاکستان کرکٹ ٹیم کے شاہینوں کے بعد خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی قومی امنگوں پر پانی پھیر دیا اور ہاکی ٹیم نے تو لٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ یوں ہم ان دنوں ان تینوں کھیلوں کی ”کارکردگی“ کا سوگ منا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جو عمل ضروری ہے وہ نہیں ہوا اور نہ ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے، بلکہ اقربا پروری، پرچی سسٹم، تعصب پن اور سازشوں کا جال نظر آتا ہے۔ توقع تھی کہ حالیہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اجلاس میں وہ بڑا فیصلہ سامنے آجائے گا جس کے لئے پوری قوم مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے لیکن یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے، ایسا محسوس ہوا کہ خرابی کی جڑ یا برائی کی ماں تو وہاں کی وہاں ہے بلکہ اب مزید طاقتور ہونے کا احساس دلا رہی ہے۔ اس محترم ہستی کاتو مشن ہی یہ لگتا ہے کہ ملک کے لئے کوئی نیک نامی رہنے ہی نہ دی جائے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ناکامی کے بعد اچھی تبدیلیوں اور سابقہ غلطیوں کی اصلاح کے بجائے محترم عاقب جاوید نے پھر سے وہی کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے کہ ناپسندیدہ کھلاڑی اب کسی طور پر بھی ٹیم میں نہ آ سکیں اس کے لئے کھیل وہی کھیلا جا رہا ہے کہ رضوان فٹ نہیں، بابر کی کارکردگی بہتر نہیں، 150کلومیٹر کی رفتار سے تیز گیند کرنے والا غریب بچہ ابھی مچور نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں ایسی رفتار والے باؤلروں کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے وہی باؤلر ٹھیک ہیں جو 134کلومیٹر تک رفتار کے حامل اور کبھی کبھار ایک آدھ گیند 141تک کر دیتے ہیں۔ میں کسی کا نام لئے بغیر یہ تجویز کرتا ہوں کہ کرکٹ اکیڈیمی میں ایک کیمپ فاسٹ باؤلروں کا بھی لگایا جائے اور اپنے سینئر فاسٹ باؤلروں کی ایک تربیتی، سلیکشن کمیٹی بنائی جائے جو ملکی ٹیلنٹ کا پوری طرح جائزہ لے۔ ان کے لئے قومی سلیکشن کی سفارش کے ساتھ ان کی باؤلنگ کو بھی نکھارے اس مقصد کے لئے سوئنگ کے سلطان اور رولپنڈی ایکسپریس کو مرکزی ذمہ داری دی جانا چاہیے جبکہ بیٹنگ کے لئے اگر آپ مصباح الحق کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو یونس خان آپ کو سوئیاں تو نہیں چبھوتے۔ مصباح الحق کو رکھنا ہے تو رکھیں، انضمام الحق، یونس خان اور محمد یوسف کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں۔ کسی سینئر تجزیہ کار نے کہا تھا کہ جب تک عاقب جاوید مسلط ہیں،کوئی بہتر کام نہیں ہو سکتا۔ اب جو خبریں آ رہی ہیں وہ مایوس کن ہیں کہ اگلی دو ٹیسٹ سیریز کے لئے ٹیم کی قیادت ہی کا فیصلہ نہیں ہو رہا، شان مسعود کو ہٹانے کی بات ہوئی تو پھر گروپنگ اور دوستی سامنے آئی اور سلمان آغا کا نام آ گیا، شاید یہ آغاہاضمہ کا چورن ہیں کہ ایک کپتانی میں ناکام رہتے ہیں تو پھر دوسری جگہ نام آجاتا ہے۔ بعض سپورٹس رپورٹرزکی اطلاع ہے کہ اس بار خود سلمان آغا گھبرا گئے اور انہوں نے مہربان سے عرض کر دیا کہ ان کے لئے تھوڑا مزید صبر کرلیں اور اب پھر شان مسعود ہی کو برقرار رکھنے کے بارے میں غور ہو رہا ہے۔
ہمارے ملک میں ہمارے سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جو بڑی حد تک درست ہے کہ کرکٹ بورڈ میں بھی وزراء ہی کے اثرات اور پرچیاں کام کرتی ہیں، ہمارے کھیلوں کی کوریج کرنے والے صحافی بھائیوں کو کم از کم ایسی انویسٹی گیشن رپورٹنگ تو کر ہی لینا چاہیے کہ کس کھلاڑی اور کوچ کے پیچھے کون سا طاقتور وزیر اور سیاسی لابی ہے۔ خواتین ٹیم کے کوچ کے حوالے سے تو شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ وزیرکھیل یونہی تو نہیں بن گئے تھے۔ اس لئے شاداب کے لئے ثقلین ہی کو پیش نظر نہ رکھیں بلکہ اسلام آباد کی لابی کا سراغ بھی لگائیں، اسی طرح یہ تحقیق بھی لازم ہے کہ اگر کوئی پسماندہ علاقے کا کھلاڑی اپنی محنت سے ٹیم میں جگہ بنا ہی لے تو پھر اسے بددل کرنے کے حربے اختیار کئے جاتے ہیں اور اسے سلیکٹ کرکے بھی میدان میں نہیں اتارا جاتا۔
میں جان بوجھ کر کوئی نام نہیں لکھ رہا کہ ہمارے سپورٹس رپورٹر اور تجزیہ کار سب جانتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ حضرات بھی پسند ناپسند کے دائرہ میں پھنس گئے ہیں ورنہ خواتین ٹیم کے چناؤ کے وقت ہی کزنز والی بات کر دی جانا چاہیے تھی اب تو چڑیاں چگ گئیں کھیت تو ان کزنز ہی نے ایک دوسری کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
محسن نقوی کا تعلق خود ہماری اپنی فیلڈ سے ہے اور انہوں نے مالک بننے سے قبل سی این این سے تربیت کے ساتھ خود بھی عملی صحافت کی تاہم ان کی ترقی کی رفتار خاصی تیز ہے۔ صحافت میں چینل اور اخبار کے مالک بنے تو سیاست میں ابتداء ہی عبوری صوبائی حکومت کے سربراہ کے طور پر ہوئی اور اب وہ وفاق میں بہت ہی اہم وزارت کے سربراہ ہیں اور ان کی اہمیت تو عالمی سطح پربھی منوا دی گئی ہے، ابھی گزشتہ روز ہی انہوں نے سعودی عرب کا خصوصی دورہ کیا، اہم قومی اور عالمی امور پر غور کے علاوہ جدہ (سعودی عرب) میں جدید ترین عالمی طرز کا کرکٹ سٹیڈیم بنانے کا معاہدہ کیا، یہ معاہدہ پی سی بی اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان ہے اس سے پی سی بی کو سعودی عرب کی کرکٹ سنوارنے کی ذمہ داری بھی ملے گی اور فائدہ سب جانتے ہیں۔
میری گزارش ان سے یہ ہے کہ اگرچہ ان پر یا کسی اور حکومتی شخصیت پر عوامی خواہشات کا کوئی دباؤ تو نہیں ہے لیکن ایک صحافی ہوتے ہوئے ان کو عوامی جذبات کا لحاظ کرکے اہم فیصلے کردینا چاہئیں کہ وہ کمزور شخصیت نہیں ہیں۔

