ہرمز دوبارہ کھلنے کا انحصار امریکا کی جانب سے ہماری تمام شرائط قبول کرنے پر ہے: ایران

تہران(رائٹرز، ایرانی میڈیا) ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکا کی جانب سے ایران کی تمام شرائط قبول کرنے پر ہے، جبکہ اس کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایران کے مخصوص طریقۂ کار اور شرائط سے مشروط ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا معاملہ الگ الگ ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کیلئے ممکنہ راستے سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے 8 اگست کو کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق معاہدہ قریب ہے، تاہم یہ معاہدہ اکیلا آبنائے کو دوبارہ کھولنے کیلئے کافی نہیں ہوگا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کو معاوضے کی ادائیگی جیسے مطالبات شامل ہیں۔

ایرانی اور عمانی حکام کے درمیان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کیلئے عارضی راستے سے متعلق پیش رفت ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ بحری راستوں کے نقاط پر بھی اتفاق کے قریب پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئےکافی نہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے شرائط رکھے جانے سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے اور اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان حسین محبی نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط اور طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہوگا اور اسے ایران و عمان مذاکرات کی پیش رفت سے براہِ راست منسلک نہیں کیا جاسکتا۔

تازہ صورتحال کے مطابق ایران اور عمان ممکنہ بحری گزرگاہ کے انتظام پر پیش رفت کررہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کیلئےامریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔

ایرانی مؤقف کے بعد آبنائے ہرمز کی فوری اور مکمل بحالی کے امکانات ایک بار پھر غیر یقینی ہوگئے ہیں، جبکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے باوجود تہران نے واضح کردیا ہے کہ صرف ایران اور عمان کے درمیان کسی انتظام پر اتفاق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئےکافی نہیں ہوگا۔