واہگہ (نامہ نگار) 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب واہگہ بارڈر پر امن مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں امتیاز عالم، سیدہ دیپ، ادریس تبسم، محمد تحسین، امتیاز الحق،فرخ مرغوب، راجہ عباس علی اور طاہرہ حبیب جالب سمیت سینکڑوں امن کے علمبرداروں نے شرکت کی۔
اس موقع پر شرکا نے پاک بھارت تعلقات کی بحالی، دونوں ممالک کے درمیان امن، تجارت کے فروغ اور ویزا سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ شرکا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئےدونوں ممالک کو کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور باہمی روابط کو فروغ دینا ہوگا۔

شرکا نے پاکستانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ بھارت کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے دوبارہ بحال ہوسکیں۔
امن مارچ میں شریک افراد نے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ موم بتیاں بھی روشن کی گئیں۔ شرکا نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کی اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئےنیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر شرکا نے امن، محبت اور پاک بھارت عوام کے درمیان دوستی کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور انسانی رشتے موجود ہیں جنہیں سیاسی کشیدگی کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔شرکا نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ خطے میں امن، باہمی احترام اور عوامی رابطوں کے فروغ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

