27ویں آئینی ترمیم کو مسترد، 21 نومبر کو یومِ سیاہ منایا جائیگا: تحریک تحفظ آئین پاکستان

آئینی ترامیم کو عدلیہ کی خود مختاری کیخلاف ملک گیر احتجاج اور سپریم کورٹ تک واک کا اعلان

اسلام آباد(نامہ نگار)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 21 نومبر (جمعہ) کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منایا جائیگا جبکہ آئین کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے جمہوری طریقے سے احتجاج کیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت تحریک کا ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا”حکومت نے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے، آئین کو اصل حالت میں فوری طور پر بحال کیا جائے۔ متنازع آئینی ترامیم نے سپریم کورٹ کے اختیار اور حیثیت کو محدود کر دیا ہے، عدلیہ کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔”

اعلامیے میں ججز کے استعفوں کو عدلیہ کی مزاحمت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ آئین کی بحالی کیلئےاحتجاجی حکمتِ عملی اپنائی جائیگی۔تحریک کے مطابق متحدہ اپوزیشن پیر، 17 نومبر کو پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک واک کریگی جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کی جائیگی۔

اجلاس میں شریک اہم رہنماؤں میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، علامہ ناصر عباس، اختر مینگل، زین شاہ، ساجد ترین، مصطفیٰ کھوکھر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی شامل تھے۔ تمام جماعتوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ آئین کی بالادستی، سپریم کورٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔