ہٹیاں بالا(خبر ایجنسیاں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ اسی نظام میں کسی نے 30 سال کا سیاسی سفر صرف ساڑھے 3 سال میں طے کرلیا، لیکن اب وہی کہہ رہا ہے کہ یہ سسٹم چلنے کے قابل نہیں۔
آزاد کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ تم کہاں سے چلے تھے اور آج کہاں پہنچ گئے ہو، اب اچانک یاد آگیا ہے کہ نظام نہیں چل سکتا، حالانکہ یہی پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم محمد علی جناح نے ملک کو دیا تھا۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلسوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم فارم 47 کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں، تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ صدرِ مملکت نے جو ووٹ حاصل کیے تھے، وہ کس فارم کے تحت تھے؟
دریں اثناء ایک بیان میں رانا ثناء اللّٰہ نے براڈ پیک پر بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو پیش آنے والے حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ انتہائی افسوسناک ہے اور پاکستان اس دکھ کی گھڑی میں نیپال کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوہ پیماؤں کی ٹیم میں مجموعی طور پر 10 غیر ملکی کوہ پیما شامل تھے، جن میں 6 نیپالی جبکہ دیگر ارکان پاکستان، امریکا، چین اور عمان کے شہری تھے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے براڈ پیک حادثے کے فوری بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو اولین ترجیح دی۔ اب تک 4 کوہ پیماؤں کی لاشیں مل چکی ہیں، جن میں نیپالی کوہ پیما پور بہادر گورونگ بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی خراب موسم اور دشوار گزار حالات کے باوجود لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش جاری ہے۔ پاکستان لاپتا کوہ پیماؤں کی تلاش مکمل ہونے تک ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

