نظام کی تبدیلی پارلیمنٹ سے شروع ہونی چاہیے: خواجہ آصف

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نظام کی کمزوری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن سے وہ ذاتی طور پر کم و بیش اتفاق کرتے ہیں، تاہم نظام میں بنیادی تبدیلی کا فورم پارلیمنٹ ہے، جس کے وہ خود بھی رکن ہیں۔

اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین سال سے نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں، اگر وہ نظام کی تبدیلی چاہتے تھے تو اس حوالے سے اس عرصے میں پیش رفت کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “دیر آید درست آید”۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ اس معاملے کو وفاقی کابینہ میں بھی زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے، جس سے ادارے اور نظام مضبوط ہوں گے اور تبدیلی آئینی عمل کے ذریعے آئے گی۔ ان کے بقول نظام کے ارتقائی عمل کو دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے تابع رکھا گیا ہے، جسے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ محسن نقوی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاس کبھی کبھار ہی اٹینڈ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان اداروں کو غیر متعلق بنا کر تاجروں کو بلا کر اتنی بڑی بات کرنا ان کی دانست میں مؤثر طریقہ نہیں۔

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا تھا، جن میں سے ایک نکتہ، جس پر عملدرآمد افواجِ پاکستان کی ذمہ داری تھا، اس پر جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر عمل کیا، جبکہ باقی 12 نکات وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہیں، جن پر ان کے بقول عملدرآمد نہیں ہوا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی نظام کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں اور اپنی وزارت سے اصلاحات کا آغاز کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تاجر برادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم اس سلسلے میں ان کے ساتھ ہوگی۔