ممبئی(شوبز خبر رساں ادارے) بالی ووڈ کے سینئر اور ورسٹائل اداکار نصیرالدین شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے متعدد لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز قبول کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک ایسے اعزازات یہ تاثر دیتے ہیں کہ فنکار کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
پانچ دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر کے باوجود 76 سالہ نصیرالدین شاہ اس وقت بھی اپنے فنی سفر کے ایک کامیاب دور سے گزر رہے ہیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی ہدایتکار عمران علی کی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ میں ان کی اداکاری کو ناقدین اور شائقین دونوں نے خوب سراہا، جبکہ فلم باکس آفس پر بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایمیزون ایم ایکس پلیئر کی سیریز ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ میں جے آر ڈی ٹاٹا کا کردار ادا کرنے پر بھی انہیں بھرپور پذیرائی ملی۔ ان تمام کامیابیوں کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ریٹائرمنٹ کا کوئی ارادہ نہیں۔
فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کی ٹیم نے ممبئی میں فلم کے سنیما گھروں میں کامیابی کے 50 روز مکمل ہونے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جسے موجودہ دور میں ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس رومانوی فلم میں دلجیت دوسانجھ، شرواری اور ویدانگ رائنا بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے کہا کہ حال ہی میں انہیں کئی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز کی پیشکش ہوئی، تاہم انہوں نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دراصل یہ کہنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے کہ اب آپ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ یہ ایوارڈ لے کر رخصت ہو جاؤں، کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ میرا کام ابھی ختم ہوا ہے۔‘‘
نصیرالدین شاہ نے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز 1970 کی دہائی کے وسط میں متوازی سنیما سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے فلم ہم پانچ کے ذریعے مرکزی دھارے کی ہندی فلموں میں قدم رکھا اور متعدد کامیاب فلموں میں اداکاری کی۔ انہیں 1979 میں فلم سپرش اور 1984 میں پار کے لیے بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ ملا، جبکہ 2005 میں فلم اقبال کے لیے بہترین معاون اداکار کا قومی ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔

