آبنائے ہرمز پر ایران کانیا ٹول ٹیکس، جہازوں کیلئےناکہ بندی مہنگی یا ادائیگی:الجزیرہ

دوحہ( الجزیرہ، غیر ملکی میڈیا)ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر لیا ہے جبکہ ایرانی اجازت کے بغیر بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ 120 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً 20 ملین بیرل تیل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل تھے، تاہم اب صرف انہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہوں نے ایران سے خصوصی منظوری حاصل کی ہو۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے حال ہی میں ’خلیجِ فارس آبنائے اتھارٹی‘ قائم کی ہے جو جہازوں کی نقل و حرکت اور ٹرانزٹ فیس کی نگرانی کر رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق بعض جہازوں سے گزرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر تک وصول کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں شامل ماہرین کی رائے کے مطابق آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش عالمی معیشت کو روزانہ تقریباً 122 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے، کیونکہ تیل اور ایل این جی کی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

ایرانی نژاد ماہرِ معاشیات نادر حبیبی کے مطابق بندرگاہوں پر کھڑے آئل ٹینکرز روزانہ بھاری مالی نقصان برداشت کرتے ہیں، اسی لیے بعض شپنگ کمپنیاں ایران کو فیس ادا کرنا نسبتاً کم نقصان دہ سمجھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور امریکی پابندیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت قدرتی سمندری گزرگاہوں پر براہِ راست ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا، تاہم سیکیورٹی، نگرانی اور بحری خدمات کے نام پر فیس وصول کی جا سکتی ہے، اور ایران اسی قانونی پہلو کو بنیاد بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایران، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات مشترکہ بحری نظام قائم کر سکتے ہیں تاکہ خطے میں محفوظ اور مستقل تجارتی راستہ برقرار رکھا جا سکے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔