آج کے فیصلے کئی دہائیوں تک امن و خوش حالی کو فروغ دے سکتے ہیں:ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (وائٹ ہاؤس، رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ آج ہم جو فیصلے کریں گے وہ آنے والی کئی دہائیوں تک امن اور خوش حالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اوول آفس میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تصویر جاری کردی، دونوں رہنما تاریخی دفتر میں دو طرفہ ملاقات کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کے ہمراہ توسیع شدہ دو طرفہ اجلاس بھی ہوں گے۔

چینی صدر شی جن پنگ وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر چینی صدر نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات اسٹریٹجک استحکام پر مبنی رہے ہیں۔ آج امریکا اور چین ایک تاریخی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے موضوع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی محفوظ طریقے سے ہو۔ چین کے پاس مصنوعی ذہانت کو اچھے مقاصد کے لیے تیار کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت اور ذمہ داری دونوں موجود ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کا باعث بنے۔

اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور شی جن پنگ سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور سپر انٹیلی جنس سے متعلق اہم معاملات پر بات چیت کریں گے۔ زیرِ بحث آنے والے معاملات کا مقصد تجارت کے زیادہ متوازن تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔

اس سے پہلے چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے صدارتی پروٹوکول کے برخلاف خود ایئرپورٹ جا کر ان کا خیرمقدم کیا۔