ترانہ، پیرس (رائٹرز، عالمی میڈیارپورٹس)یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے۔ 26 اکتوبر کو البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں حکومت مخالف مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ فرانس میں طلبہ رہنماؤں نے حکومتی رعایتوں کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
البانیہ میں اتوار 25 اکتوبر کو وزیراعظم ایڈی راما کی جانب سے احتجاجی ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے نئی پابندیوں اور جرمانوں کے اعلان کے چند گھنٹے بعد مظاہرین نے دوبارہ احتجاج کیا۔ مظاہرین پہلے وزارتِ تعلیم کے باہر جمع ہوئے اور بعدازاں وزیراعظم کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔ وہاں وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کے لیے رکھی گئی کرسیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔
مظاہرین وزیراعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج کی بنیادی وجوہات میں مبینہ سرکاری بدعنوانی، بے روزگاری اور تعلیمی معیار کی خراب صورتِ حال شامل ہیں۔ مظاہرین اس سے قبل سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو آگ لگانے، دکانوں کے شیشے توڑنے اور پولیس پر پتھراؤ کرنے کے واقعات میں بھی ملوث رہے ہیں۔
وزیراعظم ایڈی راما نے احتجاج کے دوران تشدد روکنے کے لیے نیا اقدام کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی پُرتشدد مظاہرے میں شریک ہر شخص پر، خواہ اس نے خود تشدد نہ بھی کیا ہو، 5 لاکھ البانوی لیک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے استعفے کا مطالبہ تشدد کے ذریعے منوانے کی کوشش قابلِ قبول نہیں، تاہم مظاہرین کے تمام مطالبات کو بھی غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔
فرانس میں طلبہ تنظیموں نے 26 اکتوبر کو اعلان کیا ہے کہ حکومتی رعایتوں کے باوجود ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے اور احتجاج جاری رہے گا۔ حکومت نے تعلیمی اداروں کی مرمت، جامعات کے لیے اضافی مالی وسائل، ہائی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم کرنے اور طلبہ وظائف میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاہم طلبہ رہنماؤں نے انہیں ناکافی قرار دیا ہے۔
فرانس میں 24 اکتوبر کے مظاہروں کے دوران پولیس کے مطابق 1435 افراد گرفتار کیے گئے تھے۔ وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مظاہروں میں بھی تشدد کا خدشہ موجود ہے۔ طلبہ تنظیموں اور مزدور یونینوں نے 5 نومبر کو ملک گیر احتجاج کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔
دوسری جانب اٹلی، اسپین اور بیلجیم میں بھی گزشتہ دنوں مہنگائی، کم اجرت، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور سرکاری سہولتوں کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ روم، ٹورین اور بولونیا میں پولیس نے مظاہروں کے دوران 9 افراد کو گرفتار اور 371 کو عارضی طور پر حراست میں لیا تھا، جبکہ برسلز میں تعلیمی سہولتوں کے لیے اضافی فنڈز کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں پولیس نے آنسو گیس اور مرچوں کا اسپرے استعمال کیا تھا۔

