واشنگٹن / تہران(ایجنسیاں)امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ملاحوں کو نکالنے کا آپریشن امریکی فوج کی نگرانی میں شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں ایک ہزار ایک سو ملاحوں اور 27 بحری جہازوں کو عمان کے ساحل کی جانب سے آبنائے ہرمز سے نکال لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ جہاز ایران کی اجازت کے بغیر نکالے جا رہے تھے، اسی دوران خلیج عمان سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر پروجیکٹائل فائر کیے جانے کا واقعہ پیش آیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔
امریکا نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ ایران نے چار ڈرونز کے ذریعے کیا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے “احمقانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ردعمل کا جلد پتہ چل جائے گا۔
اس بیان کے کچھ دیر بعد امریکا نے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جزیرے سرک پر ہونے والے امریکی فضائی حملے ناکام بنا دیے گئے۔
بعد ازاں ہفتے کی صبح بحرین پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ بحرینی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ یہ حملے ایران نے کیے، جن کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ادھر برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر حملے کر کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس شق کے تحت نہ صرف آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا گیا ہے بلکہ ایران کو عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے انتظامی طریقہ کار کا تعین کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔

