اسلام آباد(ایرانی سفارت خانہ، مقامی میڈیا)پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خام خیالی تھی کہ ایران کو مذاکرات میں مصروف رکھ کر حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران میناب میں اسکولوں اور عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم ایران نے تمام دباؤ کے باوجود اپنے موقف سے پسپائی اختیار نہیں کی۔رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا اور ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای پہلے ہی فتویٰ دے چکے ہیں کہ جوہری ہتھیار حرام ہیں۔ایرانی سفیر نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی دو الگ معاملات ہیں، لیکن مذاکرات کے دوران امریکا ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کے حق سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور امریکا یا مغربی ممالک کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔رضا امیری مقدم نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات متضاد ہوتے ہیں اور ایران کے خلاف بعض اندازے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

