امریکا میں بھارتی تارکینِ وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، 4 ہزار 840 ڈی پورٹ

واشنگٹن (بھارتی وزارتِ خارجہ، این ڈی ٹی وی، پی ٹی آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آگئی، جس کے نتیجے میں 2025 سے اب تک 4 ہزار 840 بھارتی شہریوں کو امریکا سے ملک بدر کیا جاچکا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2025 میں 3 ہزار 567 بھارتی شہری امریکا سے ڈی پورٹ کیے گئے، جبکہ رواں سال جنوری سے جولائی تک مزید 1 ہزار 273 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے جولائی میں تقریباً 51 ہزار افراد کو گرفتار کیا، جو ایک ماہ کے دوران گرفتاریوں کی ریکارڈ تعداد ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق آئی سی ای روزانہ تقریباً 2 ہزار گرفتاریاں کررہا ہے، جبکہ اگست کے پہلے ہفتے میں روزانہ اوسطاً 4 ہزار 200 گرفتاریاں کی گئیں۔

امریکی تنظیم اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران گرفتار کیے گئے 14 ہزار 402 ایشیائی باشندوں میں تقریباً 28 فیصد بھارتی شہری تھے۔ اسی عرصے میں 6 ہزار 218 ایشیائی باشندوں کو ملک بدر کیا گیا، جن میں بھارتی شہریوں کا حصہ بھی تقریباً 28 فیصد تھا۔

تنظیم کے مطابق بھارتی شہری ایشیائی اور بحرالکاہل کے جزائر سے تعلق رکھنے والے افراد میں گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپوں میں شامل ہیں۔

حالیہ کارروائیوں میں طویل عرصے سے امریکا میں مستقل رہائش رکھنے والی بھارتی شہری وینکاٹا واسام سیٹی بھی شامل ہیں، جنہیں گرین کارڈ کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ وہ 2013 سے امریکا کی قانونی مستقل رہائشی ہیں اور ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی پہلے عدالت میں مسترد ہوچکی تھی۔ بھارتی نژاد جاز موسیقار پریتیش والیا کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

دریں اثنا امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے امیگریشن اہلکاروں کیلئے ایسے خصوصی دستانے خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جو انسانی جسم سے رابطے پر کم وولٹیج کا بجلی کا جھٹکا دے سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض سابق امیگریشن حکام نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے سالانہ 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، تاہم آئی سی ای کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں تقریباً 4 لاکھ افراد کو امریکا سے ملک بدر کیا گیا۔امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے باعث 30 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن امریکا چھوڑ چکے ہیں، جن میں تقریباً 22 لاکھ افراد کی رضاکارانہ واپسی بھی شامل ہے۔