امریکا نے ایران میں حملوں میں ملوث ہونے کی تردیدکردی،کشیدگی برقرار

تہران / واشنگٹن / مقبوضہ بیت المقدس (الجزیرہ، مہر نیوز ایجنسی، ایرانی سرکاری میڈیا، غیر ملکی میڈیا)ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ امریکا نے ایران میں ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی یا فضائی حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کی شب جنوبی صوبہ بوشہر کے مختلف علاقوں، قریبی شہر چوغادک اور بندرعباس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ مہر نیوز ایجنسی نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک میں بھی مزید تین دھماکوں کی اطلاع دی۔

بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سیکیورٹی امور احسان جہانیان نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صوبے کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بوشہر کی جوہری تنصیب کے اطراف، چوغادک میں واقع ایک فوجی اڈہ اور جنوبی علاقے میں ماہی گیری کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بوشہر شہر میں سنائی دینے والا ایک دھماکا فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایرانی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایک مبینہ امریکی۔اسرائیلی پروجیکٹائل بوشہر کے مضافات میں واقع ایک فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب گرا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دھماکوں میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی افواج نے ایران میں کوئی فضائی حملہ یا فوجی کارروائی نہیں کی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران کی جانب سے قطر، بحرین اور کویت میں موجود بعض امریکی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جس کے باعث جون کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔

ادھر ایران میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آنے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بتایا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

اس سے قبل جنوبی اسرائیل کے حتزریم ایئر بیس پر فضائیہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسرائیل کو آئندہ بھی نئے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ ان کے بقول فضائی برتری برقرار رکھنا اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے بھی کہا کہ ایران کے خلاف فوجی مہم ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی، نئے عسکری منصوبوں پر کام جاری ہے اور مستقبل میں مزید بڑی کارروائیوں کا امکان موجود ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیلی فوج دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ہائی الرٹ پر ہے اور اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسرائیل فضائی برتری برقرار رکھتے ہوئے ایران کو دوبارہ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دریں اثناء آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حالیہ بحران کا آغاز اس ہفتے تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ہوا، جن کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز کے بحری راستے سے گزرتے ہوئے نشانہ بنے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ تمام تجارتی جہازوں کو ایرانی ساحل کے قریب سے گزرنا چاہیے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے شہید رہبرِ انقلاب آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کو مشہد میں امام علی رضاؑ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جا چکا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔