امریکا کا 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے کابل بھیجنے کا منصوبہ

ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کو تشویش، افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرات کا خدشہ

واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 150 سے زائد افغان شہریوں کو امریکا سے پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان افغان شہریوں کی واپسی کے لیے پاکستان کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی پرواز پیر کو امریکا سے روانہ ہونے کا امکان ہے۔

افغان شہریوں کے لیے کام کرنے والی ایک رضاکار تنظیم کے مطابق ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے والے افراد میں ایسے افغان شہریوں کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں طالبان کی واپسی سے قبل امریکی فوج کے ساتھ تعاون کیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ان افغان شہریوں کو براہ راست کابل واپس بھیجنے کا انتظام نہیں کر سکتی، اس لیے پاکستان ان افراد کی افغانستان واپسی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس افغانستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ اقدام غیر ملکی شہریوں کے خلاف حکومتی سخت پالیسی اور افغان شہریوں کو ملک بدری سے حاصل تحفظ ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکا پہنچنے والے متعدد افغان شہریوں کو خصوصی ویزے بھی جاری کیے گئے تھے۔