امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

واشنگٹن (ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز، امریکی میڈیا)امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق قرارداد مسترد کر دی۔ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز اور امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 49 ووٹ پڑے، جس کے بعد قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ روکنے سے متعلق قرارداد کی منظوری دی تھی۔ قرارداد کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے تھے، جبکہ 4 ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یہ قرارداد ڈیموکریٹ رکن کانگریس پرامیلا جے پال نے پیش کی تھی، تاہم اس کی قانونی حیثیت غیر پابند تھی اور اس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کو کسی مخصوص اقدام کا پابند نہیں بنایا جا سکتا تھا۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی آپریشن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ابھی اتنی تکلیف نہیں پہنچی جتنی پہنچ سکتی ہے، اور وہ نئی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ نئی کارروائیوں میں “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ بڑے حملے کیے جا سکتے ہیں۔