100 فیصد کوریج اور نجی تعلیمی اداروں سے مکمل تعاون کی ہدایت
انسداد پولیو مہم میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں ہوگی
وزیر اعلیٰ پنجاب کا زیرو پولیو ویژن یقینی بنایا جائے گا؛ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پولیو فری پنجاب کے ویژن پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ لاہور نے انسداد پولیو کے خاتمے کی جانب ایک مؤثر اور جدید قدم اٹھایا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، سی ای او ہیلتھ، مبصرین اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، جہاں خصوصی طور پر فائیوِلنٹ ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین ایف آئی پی وی مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

سی ای او ہیلتھ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو مہم کے تمام اہداف، مائیکرو پلانز اور لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ لاہور کی کل 122 ہائی رسک یونین کونسلز میں جدید ایف آئی پی وی پولیو مہم 3 نومبر سے شروع ہو کر 12 نومبر تک دس دن جاری رہے گی۔ اس مہم کے تحت 4 ماہ سے لے کر 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو یہ جدید اور انتہائی مؤثر ویکسین بالکل مفت فراہم کی جائے گی، جو بچوں کو پولیو کی بیماری کے خلاف مضبوط اور اضافی تحفظ فراہم کرے گی۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے اس موقع پر سختی سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ہائی رسک یونین کونسلز میں ہر صورت 100 فیصد کوریج کو یقینی بنایا جائے اور مہم کی کامیابی کے لیے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی خصوصی طور پر کور کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو خبردار کیا کہ انسداد پولیو مہم کے اہداف کے حصول میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ٹیمیں مائیکرو پلان پر سختی سے عملدرآمد کریں۔
مزید برآں، ڈی سی لاہور نے افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں موجود رہ کر مہم کی نگرانی کریں اور والدین کو اس جدید ایف آئی پی وی ویکسین کی افادیت اور اہمیت سے مکمل طور پر آگاہ کریں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “لاہور کو مکمل طور پر پولیو فری بنانا ہمارا اولین مشن ہے، اور ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق لاہور کو پولیو فری سہر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔” انہوں نے عوامی تعاون کو بھی پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ناگزیر قرار دیا، جس کا مقصد پولیو سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔

