انٹرویو کے دوران ٹرمپ برہم، گفتگو ادھوری چھوڑ کر روانہ ہوگئے

وسکونسن( این بی سی نیوز، امریکی میڈیا رپورٹس)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران برہم ہو گئے اور گفتگو مکمل ہونے سے قبل ہی انٹرویو ختم کرکے وہاں سے چلے گئے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں میزبان کرسٹن ویلکر کو دیے گئے تقریباً 50 منٹ طویل انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے بعض امریکی ذرائع ابلاغ پر جانبداری اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے، جبکہ میزبان کے ساتھ ان کی تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

رپورٹس کے مطابق انٹرویو کے اختتام کے قریب کرسٹن ویلکر نے کیلیفورنیا کے پرائمری انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے دھاندلی کے دعوؤں پر سوال اٹھایا، جس کے بعد ماحول کشیدہ ہوگیا اور سوال و جواب کا سلسلہ سخت لہجہ اختیار کر گیا۔

اس موقع پر ٹرمپ نے این بی سی کو یک طرفہ اور بدعنوان نیٹ ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کافی وقت دے چکے ہیں اور اب انٹرویو ختم کیا جانا چاہیے۔

جب میزبان نے یاد دلایا کہ وہ اس انٹرویو کے لیے طویل سفر کرکے وسکونسن پہنچی ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ خود بارش میں ایک گھنٹے سے زائد وقت گزار چکے ہیں اور بہت سے سوالات کے جواب دے چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعد ازاں ٹرمپ نے اپنا مائیکروفون اتارا، زمین پر رکھا اور انٹرویو کا مقام چھوڑ دیا، تاہم روانگی سے قبل انہوں نے میزبان کے کندھے پر ہاتھ بھی رکھا۔

یہ انٹرویو ریاست وسکونسن کے دورے کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا، جہاں شدید بارش اور بعض تکنیکی مسائل کے باعث گفتگو میں متعدد مرتبہ وقفہ آیا۔

بعد میں کرسٹن ویلکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ خراب موسم نے انٹرویو کو پیچیدہ بنا دیا تھا، تاہم ایران، معیشت اور دیگر اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق اگلے روز ٹرمپ سے دوبارہ بات ہوئی اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بارش نے انٹرویو کے ماحول کو متاثر کیا تھا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے وسکونسن میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ انٹرویو کے دوران کچھ غصے میں آ گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید بارش اور میڈیا کے رویے کے باعث وہ خوش نہیں تھے، تاہم مجموعی طور پر ملاقات مثبت رہی۔