اوبر کے بعد ٹیکسی صنعت تبدیل، کیوبیک کے ٹیکسی مالکان سپریم کورٹ جانے کو تیار

مونٹریال (سی بی سی) کیوبیک میں ٹیکسی پرمٹ مالکان حکومت کے خلاف قانونی جنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے معاملہ سپریم کورٹ آف کینیڈا میں لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مقدمے میں شامل سابق ٹیکسی مالکان کا مؤقف ہے کہ 2019ء میں صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکسی صنعت کو غیر منظم کرنے اور اوبر جیسی ایپ پر مبنی سفری خدمات کو قانونی حیثیت دینے کے نتیجے میں ان کے لاکھوں ڈالر مالیت کے ٹیکسی پرمٹ عملاً بے قیمت ہو گئے۔

میکس لوئی روزالبیر، جو تقریباً پانچ دہائیوں سے مونٹریال میں ٹیکسی چلا رہے ہیں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1977ء میں قرض لے کر ٹیکسی پرمٹ خریدا تھا اور اسے اپنی ریٹائرمنٹ کی سرمایہ کاری سمجھتے تھے مگر حکومتی فیصلے کے بعد یہ اثاثہ اچانک ختم ہو گیا۔

کلاس ایکشن مقدمے میں تقریباً سات ہزار سابق پرمٹ مالکان کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹیکسی پرمٹ ایک قابلِ ملکیت اثاثہ تھا اور حکومت کو اس کے خاتمے پر اسی طرح معاوضہ ادا کرنا چاہیے تھا جیسے زمین یا دیگر جائیداد کے حصول پر کیا جاتا ہے۔

کیوبیک کی اعلیٰ عدالت نے 2024ء میں پرمٹ مالکان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے 14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اضافی معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا، تاہم بعد میں اپیل عدالت نے یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

اپیل عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکسی پرمٹ ملکیتی حق نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے دیا گیا ایک استحقاق تھا، اس لیے اس کے خاتمے کو خفیہ ضبطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مقدمے کے مرکزی درخواست گزار داما میٹیلس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور تارکینِ وطن تھے جنہوں نے اپنی جمع پونجی اس شعبے میں لگائی تھی اور حکومتی فیصلے نے انہیں شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ صرف ٹیکسی صنعت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دودھ کی پیداوار کے کوٹے، ماہی گیری کے اجازت ناموں اور معدنی حقوق جیسے دیگر حکومتی ضابطوں کے تحت چلنے والے شعبوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

وکلاء نے سپریم کورٹ میں اپیل کی اجازت کیلئے درخواست دائر کر دی ہے جبکہ صوبائی اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کیلئے 30 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ آنے والے مہینوں میں فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ اس اہم مقدمے کی سماعت کرے گی یا نہیں۔