اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو رواں سال کینیڈا کے سرکاری دورے کی دعوت دے دی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے دفاعی اور سکیورٹی معلومات کے تبادلے سے متعلق نئے معاہدے پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد کینیڈین وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے جنرل سکیورٹی آف انفارمیشن ایگریمنٹ پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا، جس سے دفاعی اور سکیورٹی سے متعلق خفیہ معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک نے دفاع، مالیات اور ہجرت کے شعبوں میں آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ نریندر مودی نے دعوت پر مارک کارنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے 2026 میں کینیڈا کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے دورے کی تاریخ سفارتی ذرائع سے طے کرنے پر اتفاق کیا۔
مارک کارنی کی حکومت گزشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے تناظر میں کینیڈا بھارت سمیت متعدد ممالک سے اقتصادی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں خالصتان تحریک کے حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈا نے بھارت پر مداخلت کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے اور آزاد تجارتی مذاکرات بھی معطل کر دیے گئے تھے۔
بھارت نے ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم کینیڈین سکھ تنظیموں نے حکومت کی نئی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے مؤقف سے انحراف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا کسی بھی ملک کی جانب سے غیر ملکی مداخلت یا سرحد پار جبر کو برداشت نہیں کرے گا اور اس حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔

