اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) اسکاربرو سینٹر—ڈان ویلی ایسٹ سے رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد نے ایوانِ زیریں میں اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں اپنے حلقے میں موجود فلپائنی نژاد کینیڈین کمیونٹی پر فخر ہے، جنہوں نے کینیڈا کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام کی اکثریت حکومت کی ان پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے جو کاروباروں کو بڑھنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے وزیرِ بین الاقوامی تجارت ہون منیندر سدھو سے استفسار کیا کہ حکومت انڈو پیسیفک خطے میں تجارتی تعلقات کو کیسے مضبوط بنا رہی ہے، خاص طور پر آنے والے بجٹ سے قبل اس سمت میں کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جواب میں وزیرِ تجارت منیندر سدھو نے کہا کہ وہ سلمیٰ زاہد کی فلپائنی ہیریٹیج منتھ کے فروغ کے لیے خدمات پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے وہ وزیرِ اعظم کے ہمراہ انڈو پیسیفک خطے کے دورے پر گئے، جو دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے خطوں میں سے ایک ہے، جہاں انہوں نے کینیڈا کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر کام کیا۔
منیندر سدھو نے کہا کہ کینیڈا نے فلپائن اور تھائی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (FTA) کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا-آسیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر آزاد تجارتی معاہدے کے بعد چھ سال کے اندر تجارت دگنی ہو جاتی ہے، جو کینیڈین کارکنوں اور کاروباروں کے لیے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کا مقصد نئی منڈیوں کے دروازے کھولنا، قومی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھانا، اور غیر امریکی ممالک کے ساتھ تجارت کو دوگنا کرنا ہے۔

