اہم یورپی رہنما،یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ہمراہ آج ٹرمپ سے ملیں گے

واشنگٹن / برسلز (اے ایف پی، سی این این، این بی سی)یورپی یونین اور نیٹو کے اہم رہنماآج یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ہمراہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا مقصد ماسکو کی جارحیت کے مقابلے کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی وضع کرنا اور یوکرین کے لیے امریکا کی جانب سے ممکنہ سیکیورٹی ضمانتوں پر بات چیت کرنا ہے۔

یہ ملاقات الاسکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سربراہی ملاقات کے بعد ہو رہی ہے، جو فوری جنگ بندی کے کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے بعدازاں اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا کہ روس پر “بڑی پیشرفت” ہوئی ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکا کے روسی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ٹرمپ اور پیوٹن نے یوکرین کے لیے “مضبوط سیکیورٹی ضمانتوں” پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم برسلز میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے ہمراہ موجود صدر زیلنسکی نے روس کی جانب سے کسی بھی قسم کی سیکیورٹی ضمانت کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز ولادیمیر پیوٹن کے مؤقف سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ پیوٹن کوئی ضمانت نہیں دے سکتے۔”

وان ڈیر لیین نے امریکا کی اس پیشکش کو سراہا کہ یوکرین کے لیے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی سیکیورٹی ضمانتیں دی جائیں گی، اگرچہ یہ نیٹو سے الگ ہوں گی۔

یورپی رہنماؤں میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرِش مرز، نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُتے، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹبز اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین شامل ہیں۔ ان رہنماؤں نے روانگی سے قبل ویڈیو میٹنگ میں مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔

سی این این سے گفتگو میں امریکی ایلچی وٹکوف نے کہا کہ “ہماری پیر (18 اگست) کو نتیجہ خیز ملاقات ہوگی، جس میں حقیقی اتفاقِ رائے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ امن معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔”

این بی سی سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر امن معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے، جن میں روس پر نئی پابندیاں لگانا بھی شامل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے پیوٹن کی اس تجویز پر بات کی کہ روس مشرقی یوکرین کے ڈونیسٹک اور لوگانسک (ڈونباس) پر مکمل کنٹرول حاصل کرے اور اس کے بدلے میں خیرسون اور زاپوریزیا کے محاذوں پر پیش قدمی روک دے۔ تاہم صدر زیلنسکی نے ڈونباس چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے ستمبر 2022 میں ان چار یوکرینی علاقوں کو ضم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب تک کسی بھی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔ دریں اثنا، اتوار کو کیف اور ماسکو دونوں نے ایک دوسرے پر ڈرون حملے کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں