ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے آپشنز،واشنگٹن میں کشیدگی،اسرائیل ہائی الرٹ

یروشلم / واشنگٹن (بین الاقوامی میڈیا رپورٹس)اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے کیونکہ حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی دوبارہ چند دنوں میں شروع ہو سکتی ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی حکام وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر غور آپشنز میں”مختصر اور شدید حملوں” کا امکان بھی شامل ہے جن کا مقصد مذاکرات میں دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں کارروائیوں اور تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کیلئے اسپیشل فورسز مشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران حکومت اب بھی معاہدہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ڈیل کرنے کیلئے بے چین ہے لیکن اسے جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیے جا سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ”ہمیں مکمل طور پر واضح نہیں کہ ایران کی قیادت کون کر رہا ہے” اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض رہنماؤں اور فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں ملک کے جوہری اور میزائل پروگرام کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔ادھر امریکی کانگریس میں اس معاملے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ریپبلکن ارکان ایران، روس، چین اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس جنگ کے اثرات، ہلاکتوں اور عالمی تجارتی راستوں کی رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔