نیویارک (ایجنسیاں) امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ناقد سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ان کی جان کو لاحق نئے اور فوری خطرے سے آگاہ کر دیا ہے۔ پنوں کے مطابق اہلکار 15 اکتوبر کو نیویارک میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں خطرے سے متعلق اطلاع دی۔ امریکی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
سکھوں کے لیے الگ وطن خالصتان کی تحریک چلانے والی تنظیم سکھس فار جسٹس 18 اکتوبر کو کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان کے قیام سے متعلق ریفرنڈم کرانے جا رہی ہے۔ اس میں سکھ برادری سے یہ رائے لی جائے گی کہ آیا بھارتی پنجاب کو الگ ملک قرار دے کر اس کا نام خالصتان رکھا جائے۔ یہ علامتی ریفرنڈم ہے، جس کے قانونی طور پر پنجاب کی حیثیت تبدیل کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔
پنوں کے مطابق ایف بی آئی اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ان کی کینیڈا آمد کے ممکنہ سفر سے اس خطرے کا تعلق ہے اور اس حوالے سے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم اہلکاروں نے خطرے کی نوعیت یا اس کے پیچھے موجود افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایف بی آئی نے اس معاملے پر فوری طور پر عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
گرپتونت سنگھ پنوں 2023ء میں بھی امریکا میں ایک مبینہ قاتلانہ سازش کا نشانہ بنے تھے۔ امریکی استغاثہ نے اس سازش کے سلسلے میں بھارتی شہری نکھل گپتا اور سابق بھارتی انٹیلی جنس اہلکار وکاش یادو پر الزامات عائد کیے تھے۔ نکھل گپتا نے فروری 2026ء میں قتل کے لیے معاوضہ دینے کی سازش سمیت وفاقی الزامات تسلیم کر لیے تھے، جبکہ اس مقدمے میں مزید عدالتی کارروائی جاری ہے۔
اسی دوران جون 2023ء میں کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو گردوارے کے باہر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ستمبر 2023ء میں کینیڈین حکام نے اس قتل کے سلسلے میں بھارتی سرکاری اہلکاروں کے مبینہ تعلق کے شواہد ہونے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم بھارت نے نجر کے قتل اور پنوں کے خلاف مبینہ قاتلانہ سازش میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

