اسلام آباد (ایجنسیاں) ملک میں ایل پی جی کی تقسیم کیلئے 426 لائسنس یافتہ مارکیٹنگ کمپنیاں موجود ہیں، تاہم مقامی پیداوار کے 50 فیصد سے زائد حصے پر صرف 45 کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے، جنہوں نے پیداواری کوٹے حاصل کر رکھے ہیں۔
حکومت نے کوٹہ سسٹم ختم کرکے مسابقتی بولیوں کے ذریعے ایل پی جی تقسیم کرنے کی کوشش کی تو کوٹہ ہولڈرز نے مختلف عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر لیے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ایل پی جی کے کوٹے حاصل کرنے والوں کی اکثریت بااثر افراد پر مشتمل ہے۔ حکومت ایل پی جی کی تقسیم مسابقتی بولی کے ذریعے کرنے کے لیے نئی پالیسی تیار کر رہی ہے، جبکہ عدالتی حکم امتناع ختم کرانے کے لیے بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
اوگرا کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی مارکیٹنگ کے لیے 426 لائسنس یافتہ کمپنیاں ہیں، لیکن مقامی پیداوار کے 50 فیصد سے زیادہ حصے پر صرف 45 کمپنیوں کا کنٹرول ہے۔
پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، پارکو، مول پاکستان اور سرکاری ریفائنریز روزانہ تقریباً 2100 میٹرک ٹن ایل پی جی پیدا کرتی ہیں، جس میں سے نصف سے زیادہ گیس ان 45 کوٹہ ہولڈر کمپنیوں کو فراہم کی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کوٹہ حاصل کرنے والی کمپنیاں مقامی ایل پی جی خرید کر ان مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی فروخت کرتی ہیں جنہیں براہ راست مقامی پیداوار سے گیس نہیں مل پاتی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے پالیسی ونگ کے ایک افسر کے مطابق کوٹہ حاصل کرنے والی کمپنیوں کے پیچھے بڑے بااثر نام ہیں، تاہم یہ کمپنیاں براہ راست ان شخصیات کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
حکومت چاہتی ہے کہ ایل پی جی مخصوص کمپنیوں کو مقررہ کوٹے کے بجائے مسابقتی بولیوں کے ذریعے فراہم کی جائے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے کھلی بولیوں کے ذریعے گیس تقسیم کرنے کی کوشش بھی کی تھی، تاہم کوٹہ ہولڈرز نے مختلف ہائی کورٹس سے حکم امتناع حاصل کر لیے۔
پیٹرولیم ڈویژن حکام کے مطابق حکم امتناع خارج کرانے کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ نئی ایل پی جی پالیسی پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے، جس میں مقامی پیداوار کی تقسیم کو مسابقتی بولیوں سے منسلک کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

