واشنگٹن(اے پی، رائٹرز، امریکی میڈیا)سابق امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کانگریس کے ارکان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایپسٹین فائلز کی اشاعت میں ممکنہ کردار سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سامنے تقریباً چار گھنٹے طویل بند کمرہ اجلاس میں پام بونڈی نے محکمۂ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین کیس کی فائلز جاری کرنے کے عمل کا دفاع کیا، تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ کردار یا معلومات سے متعلق سوالات پر تفصیلی جواب نہیں دیا۔
اپنے ابتدائی بیان میں پام بونڈی نے کہا کہ ایپسٹین فائلز کی اشاعت صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی ہدایت پر شفافیت اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کی گئی۔
اجلاس کے بعد ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے صحافیوں سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ بونڈی اہم سوالات کے جواب دینے سے مسلسل گریز کر رہی ہیں اور یہ پورا عمل غیر تسلی بخش ہے۔ایک اور رکنِ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے پوچھا کہ آیا صدر ٹرمپ کو ایپسٹین کے جرائم کے بارے میں پہلے سے علم تھا تو پام بونڈی نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔
ایپسٹین کےمتاثرین میں شامل کئی خواتین بھی کانگریس کے باہر موجود تھیں جنہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس سے متعلق تمام دستاویزات مکمل طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔متاثرہ خواتین میں شامل ڈینیئل بینسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کا رویہ اختیار کیا جائیگا۔
پام بونڈی اس سے قبل ایپسٹین فائلز کی مکمل اشاعت کے اشارے دے چکی تھیں تاہم بعد میں اپنے مؤقف میں نرمی لانے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد کانگریس نے فائلز کی اشاعت کو قانونی شکل دینے کیلئے قانون سازی کی۔
کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے کہا ہے کہ اگر پام بونڈی نے کانگریس کے سامنے غلط بیانی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ اجلاس کا تحریری ریکارڈ بعد میں عوام کے لیے جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور استحصال کے سنگین الزامات تھے۔ وہ 2019ء میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے اور سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے 2000ء کی دہائی کے آغاز میں ہی ایپسٹین سےتعلقات ختم کر لیے تھے۔

