ایک بار پھر…… اچھی بری خبریں

کچھ لوگوں کا کہنا ہے خبر نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری خبر بس خبر ہوتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس خبر کو پڑھ کر خوشی ملے، اطمینان محسوس ہو، ایسا لگے کچھ بہتری ہوئی ہے وہ یقینا اچھی خبر ہے لیکن کچھ خبریں ایسی ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر صرف تکلیف ہوتی ہے،دُکھ ہوتا ہے، افسوس ہوتا ہے، ناگوار گزرتی ہیں ان کو پڑھ کر لگتا ہے کہ برائیاں بڑھ گئی ہیں اور تیزی سے پھیل رہی ہیں ایسی خبر کو بری خبر ہی کہا جائے گا۔ بہرحال آج کے کالم کی ابتدااچھی خبر سے کرنی چاہئے۔ لاہور کے شہریوں کیلئے اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نے 12 سے 14 مارچ 2027ء بسنت کی اجازت دے دی ہے۔ یعنی تین دن بسنت منائی جا سکے گی۔ دن رات 24گھنٹے یعنی 72 گھنٹے نان سٹاپ بسنت منائی جائے گی۔ البتہ ایک شرط لگائی گئی ہے کہ بسنت کے شیدائی اپنی جن چھتوں پر بسنت منانا چاہتے ہیں ان کی دیواریں دسمبر کی 31تاریخ تک ساڑھے تین فٹ اونچی کر لیں۔ چھت اگر کمزور ہے تو اسے مضبوط بنائیں۔ چھت کے ارد گرد بجلی کی ننگی تاریں ٹھیک کروائیں کہیں پتنگ لوٹتے ہوئے کرنٹ لگنے سے نقصان نہ پہنچے۔ یہ چیزیں آپ نے خود کرنی ہیں۔ حکومت تبھی آپ کو چھت پر پتنگ اڑانے اور بسنت منانے کی اجازت دے گی جب آپ یہ سارے کام بہتر انداز میں کر کے اپنی حفاظت کا بندوبست کر لیں گے۔ یہ یقینا اچھی خبر ہے کیونک بسنت پر پابندی لگنے کی وجہ یہی تھی کہ ہر سال درجنوں لوگ پتنگ لوٹتے ہوئے گاڑیوں کے نیچے آکر، کرنٹ لگنے سے، چھتوں سے گرنے سے مر جاتے تھے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ موت گردن پر ڈور پھرنے سے ہوتی تھی۔ سارا سال گردن کٹنے سے سڑکوں پر لوگ مر رہے تھے۔ اللہ کرے کہ خوشی کی یہ خبر خوشی کی رہے اور ”72گھنٹے کی نان سٹاپ بسنت“ کے دوران کسی کے گھر میں کوئی بری خبر نہ پہنچے۔ خوشی کا تہوار ہے خوشیوں سے منایا جائے انجام بھی اچھا ہی ہو۔

دوسری اچھی خبر چینی کی قیمت میں 10 روپے کلو کی کمی ہے۔ مہنگائی کے ایک ایسے دور میں جہاں پٹرول کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پہ اضافہ یا کمی ہو رہی ہو اور پٹرول 400 روپے کے آس پاس ”گھوم رہا“ ہو۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے سبزی دودھ سمیت ہر چیز مہنگی ہو رہی ہو تو وہاں خوف ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کل کیا ہو گا لیکن اس مہنگائی کے عالم میں اگر چینی کی قیمت میں 10 روپے کمی ہو گئی ہے تو یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن اس میں بھی کچھ برا ہونے کا خوف رہتا ہے۔ گنے کا کرشنگ سیزن شروع ہونے سے چینی کی قیمت 140 سے کم ہو کر 130 پر آ گئی ہے لیکن کیا یہ برقرار رہے گی یا مزید کم ہوگی، کیونکہ ہماری شوگر فیکٹریوں کے مالکان چینی کو پاکستان سے باہر بیچ کر منافع ڈالر کی شکل میں کمانے پر زیادہ زور دیتے ہیں، جس سے پاکستان میں چینی کی کمی ہوتی ہے اور چینی مہنگی کر دی جاتی ہے۔ پھر چینی کم ہو جانے کے بہانے چینی درآمد کی جاتی ہے پھر درآمد شدہ چینی کو مہنگا بیچ کر پیسہ کمایا جاتا ہے۔ خدا کرے کہ اس دفعہ یہ کھیل نہ کھیلا جا سکے اور یہ خبر اچھی ہی ثابت ہو۔

ایک اور ”اچھی خبر“ جس کو ”کچھ لوگ“ برا بھی کہہ رہے ہیں وہ ملتان کے 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کے قاتل توقیر نذیر کی ”CCD کے ہاتھوں“ مارے جانے کی ہے۔ وسیم کے باپ کے انتقال کے بعد اس کی ماں نے وسیم، اس کے چھوٹے بھائی اور بہن کو ”دوسری شادی کرنے کیلئے“ یتیم خانے میں ”پھینک دیا تھا“۔ پانچ سال بعد وسیم کی بہن تو ماں کے پاس واپس چلی گئی۔ وسیم کو یتیم خانے کی انتظامیہ نے ایک بجلی کے ٹھیکے دار کے حوالے کر دیا تاکہ الیکٹریشن کا کام سیکھ سکے۔ وسیم صرف سات دن وہاں رہا اس دوران اس کے ساتھ کیا ہوا۔ بقول ایک صوبائی وزیر وسیم کے ساتھ ”بدسلوکی“ کی گئی، جس سے تنگ آ کر وہاں سے بھاگ نکلا۔ ٹھیکیدار نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ اس کا گاڑی میں پیچھا کیا اور گاڑی سے ٹکر ماری۔ بدقسمت وسیم گاڑی اور ایک گھر کے پھاٹک کے درمیان کچل کر مارا گیا۔ ملزم توقیر نے گاڑی سے اُتر کر یہ یقین کیا کہ وہ مر چکا ہے۔ ملزم کو لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بقول CCD اس کو ”برآمدگی“ کیلئے لیجایا جا رہا تھا تو اس کے ساتھی اسے چھڑا کے لے گئے۔ سی سی ڈی کے مطابق بعد ازاں ملزمان کا سامنا تلاش میں نکلی ٹیم سے ہوا جہاں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزم توقیر نذیر مارا گیا۔ توقیر نذیر کے مرنے پر سوشل میڈیا پر کافی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اسے کہتے ہیں فوری انصاف۔ ن لیگ کی رہنما اور وزیراعلیٰ کی قریبی ساتھی حنا پرویز بٹ نے انسٹا پہ اپنی پوسٹ میں لکھا ”یہاں مریم نواز کی حکومت ہے یہاں فوری انصاف ملتا ہے“، لیکن نجانے کیوں انہیں چند گھنٹوں کے بعد اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ فوری انصاف کوئی برائی نہیں ہے اگر وہ بذریعہ عدالت مل جائے۔ بہرحال کچھ لوگ اس کو اچھی اور کچھ بری خبر قرار دے رہے ہیں۔ بری خبر قرار دینے والوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے کے بھی تو بچے ہیں۔ البتہ ہمارے نزدیک یتیم خانے کی انتظامیہ کا احتساب ابھی باقی ہے جو بچوں کے نام پر مخیر حضرات سے لاکھوں وصول کر کے بچوں کو پڑھانے لکھانے کی بجائے ”کمائی کیلئے ظالم ٹھیکیداروں کو کم عمر بے بس بچے“ فراہم کرتی ہے۔

ایک اور بری خبر صوبائی دارالحکومت کی ہے۔ جہاں نشتر کالونی میں ایک دو سالہ بچہ مضر صحت دودھ پینے سے جاں بحق اور اس کا تین سالہ بھائی تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل ہے۔ ملاوٹ کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کافی سخت ہے۔ فوڈ اتھارٹی ”کام“ کر رہی ہے لیکن نجانے کیوں اس کے باوجود لاہور بھر میں ملاوٹ شدہ دودھ، کیمیکل اور جانوروں کے استعمال کیلئے درآمد شدہ خشک دودھ سے ”تیار دودھ“ انسانوں کو پلایا جا رہا ہے۔ اس بری خبر میں اچھائی یہ ہے کہ اللہ کرے جس دکان سے یہ دودھ خریدا گیا تھا اس کا احتساب کیا جائے۔ جہاں پر یہ مضر صحت دودھ تیار اور سپلائی کیا جا رہا ہے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ایک اور بری خبر شیخوپورہ سے آئی ہے۔ جہاں ”ایک اور زینب“ ظلم کا شکار ہو کر داعی اجل ہوئی ہے۔ اس کی موت کی وجوہات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن ابتدائی خبر کے مطابق زینب جس گھر میں ملازمہ کا کام کرتی تھی اس کی مالکن لیڈی ہیلتھ وزیٹر فرخندہ بی بی، اس کے شوہر اور 20 سالہ بیٹے نے ڈنڈوں سے مار مار کے زینب کو مار ڈالا ہے۔ اس نے اور اسکے گھر والوں نے 12سالہ معصوم زینب کو کیوں مارا اس نے کیا غلطی کی یا اس سے کیا غلطی ہوئی۔ یہ پتہ لگانا اب CCD کا کام ہے۔ پنجاب کے عوام اس ”بری خبر کے اندر سے بھی کسی اچھی خبر“ کے منتظر ہیں۔