پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 79 برس ہو چکے ، اس طویل عرصے میں ہم نے، حکومتیں اور نظام بدلتے دیکھے ، آئینی ترامیم آئیں ، نئے ادارے بنے اور کئی اداروں کو ختم ہوتے بھی دیکھا ، لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے، کیا ہمارا انتظامی ڈھانچہ 21ویں صدی کے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے؟آج ایک بار پھر ملک میں نئے صوبوں کی بحث زور پکڑ رہی ہے،میں نے اس بحث کا جائزہ لیا جس کا خلاصہ اور اپنا موقف تیار کیا ہے جو آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ بعض سیاسی حلقے سمجھتے ہیں کہ موجودہ بڑے صوبے انتظامی اعتبار سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ان میں مؤثر حکمرانی ممکن نہیں رہی، دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ہر انتظامی مسئلے کا حل ایک نیا صوبہ بنانا ہے؟ یا اس کے بجائے موجودہ صوبوں کے اندر چھوٹے، بااختیار اور مؤثر انتظامی یونٹ بنا کر حکومت کو عوام کے قریب لایا جا سکتا ہے؟میرے خیال میں پاکستان کو اس سوال پر جذباتی نہیں بلکہ انتظامی، معاشی اور سیاسی بنیادوں پر غور کرنا چاہیے۔
نئے صوبے بنانا بلاشبہ ایک اہم سیاسی اور آئینی معاملہ ہے، کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرنے کیلئےآئینی طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے اور اس عمل میں متعلقہ صوبائی اسمبلی سمیت پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کا تقاضا بھی سامنے آتا ہے، حالیہ قانونی بحث میں بعض ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آئین میں نئے صوبے بنانے کیلئےبراہِ راست اور واضح طریقہ کار کی نوعیت کیا ہے؟لیکن اگر مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت عوام کے قریب ہو، فیصلے جلد ہوں، وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو ہر چھوٹے کام کے لیے صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے تو شاید اس مقصد کیلئے نئے صوبے واحد راستہ نہیں،نئے انتظامی یونٹ ایک نسبتاً آسان، کم خرچ اور زیادہ عملی راستہ ہو سکتے ہیں۔اس وقت اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، حکمرانی کی مرکزیت ہے، پنجاب میں لاہور، سندھ میں کراچی، خیبر پختونخوا میں پشاور اور بلوچستان میں کوئٹہ فیصلہ سازی کے بڑے مراکز ہیں،نتیجہ یہ ہے کہ صوبہ جتنا بڑا ہوتا گیا، دارالحکومت اور عام شہری کے درمیان انتظامی فاصلہ بھی بڑھتا گیا۔
پنجاب کی مثال سب سے نمایاں ہے، اگر ایک شہری ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان، فیصل آباد یا راولپنڈی میں بیٹھا ہے تو اس کی بہت سی اہم انتظامی ضروریات کا آخری فیصلہ لاہور میں ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ لاہور میں بیٹھنے والی حکومت نااہل ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اتنے بڑے جغرافیائی اور آبادیاتی حجم کو ایک ہی مرکز سے مؤثر طور پر چلانا بذاتِ خود ایک مشکل انتظامی مشق ہے،حالیہ قومی بحث میں بھی یہی اعتراض سامنے آیا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کے صوبائی دارالحکومتوں میں ارتکاز کا بھی ہے۔ فرض کریں پنجاب کو فوری طور پر تین صوبوں میں تقسیم کرنے کے بجائے تین یا چار بڑے انتظامی یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے،مثلاً،راولپنڈی انتظامی یونٹ، وسطی پنجاب انتظامی یونٹ، ملتان انتظامی یونٹ اور بہاولپور یا ڈیرہ غازی خان انتظامی یونٹ،ان یونٹس کو صرف نام نہ دیا جائے بلکہ انہیں حقیقی انتظامی اختیارات دیے جائیں،ہر یونٹ کا اپنا مضبوط انتظامی سیکرٹریٹ ہو،اہم محکموں کے ریجنل سربراہ ہوں، ترقیاتی بجٹ کا قابلِ ذکر حصہ اسی سطح پر استعمال ہو،صحت، تعلیم، آبپاشی، بلدیات، زراعت، صنعت، سڑکوں اور دیگر شعبوں میں فیصلہ سازی کا بڑا حصہ دارالحکومت سے منتقل کرکے ان یونٹس کو دیا جائے،یوں وزیراعلیٰ پنجاب لاہور میں بیٹھ کر ہر ضلع کے معمولی انتظامی مسئلے میں مداخلت کرنے کے بجائے بڑے پالیسی معاملات پر توجہ دے سکے گا،یہی اصول سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے، کیا صرف نقشے پر نئی لائنیں کھینچ دینے سے انتظامی بحران ختم ہو جائے گا؟یقیناً نہیں،اگر نئے انتظامی یونٹ بنا کر بھی تمام اختیارات لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں ہی رکھے گئے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ انتظامی کاغذی کارروائی ہوگی،اصل تبدیلی بیوروکریسی کے ڈھانچے میں لانا ہوگی۔آج صوبائی سیکرٹریٹ میں بیٹھا ہوا ایک سیکرٹری بیک وقت صوبے کے درجنوں اضلاع، سینکڑوں افسران اور ہزاروں منصوبوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، نتیجتاً فائلیں بڑھتی ہیں، فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور مقامی مسائل کی براہ راست سمجھ کمزور پڑتی ہے،اگر بڑے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری سطح کے افسر کو حقیقی اختیارات دیے جا سکتے ہیں، اس کے ماتحت مختلف محکموں کے سربراہ کام کریں اور انہیں واضح مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں،اس طرح بیوروکریسی صرف احکامات پر عمل کرنے والی مشین نہیں رہے گی بلکہ علاقائی سطح پر مسئلے حل کرنے والی انتظامی قوت بن سکتی ہے۔ہمیں نئے عہدے نہیں، نئے اختیارات چاہئیں،ہمیں نئے دفاتر نہیں، نئی فیصلہ سازی چاہیے،ہمیں نئی بیوروکریسی نہیں، بہتر بیوروکریسی چاہیے،اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں شہری کو اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت کا محتاج نہ ہونا پڑے،اسی طرح بلدیاتی نظام کو نظرانداز کرکے کوئی اصلاح مکمل نہیں ہوگی،ہر سطح کے اختیارات واضح ہوں، کوئی محکمہ یہ نہ کہہ سکے کہ یہ کام ہمارے دائرۂ اختیار میں نہیں، بجٹ بھی اسی تناسب سے منتقل ہو اور افسران کی ذمہ داریاں بھی واضح ہوں۔
پاکستان کو آزادی حاصل کیے 79 سال ہو چکے ، اس عرصے میں ہم نے چار صوبوں کے ساتھ بھی سفر کیا اور انتظامی تقسیم کے کئی تجربات بھی کیے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بحث کو صرف سیاسی نعروں سے نکال کر گورننس ریفارم کی سطح پر لے جائیں،نئے صوبوں کی بحث کو رد کرنے کے بجائے ایک عملی سوال پوچھا جائے،کیا پہلے موجودہ صوبوں کے اندر بااختیار، مضبوط اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے؟
پنجاب میں لاہور کے ساتھ ملتان، بہاولپور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان کو حقیقی انتظامی مراکز بنایا جا سکتا ہے، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی جغرافیہ، آبادی، معاشی سرگرمی اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اسی طرح کے یونٹس بنائے جا سکتے ہیں،اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جائے تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت ہی کم محسوس ہو،اور اگر تجربہ ناکام ہو تو پھر ہمارے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ ٹھوس بنیاد ہوگی کہ واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے،پاکستان کو اس وقت نئے نقشوں کی نہیں، نئی انتظامی سوچ کی ہے،نئے صوبے سیاسی نقشہ بدل سکتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ وہ حکمرانی کا معیار بھی بدل دیں۔اس کے برعکس بااختیار انتظامی یونٹس، مضبوط بلدیاتی حکومتیں، واضح اختیارات، علاقائی بجٹ اور جواب دہ بیوروکریسی مل کر پاکستان کے انتظامی بحران کا نسبتاً کم خرچ، کم متنازع اور زیادہ عملی حل فراہم کر سکتے ہیں،لہٰذا 79 سال بعد شاید ہمیں یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں؟ہمیں پہلے یہ پوچھنا چاہیے،پاکستان میں حکومت کتنی دور ہے، اور اسے عوام کے کتنا قریب لایا جا سکتا ہے؟اگر اس سوال کا جواب ہمیں مل گیا تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت کا جواب بھی خود بخود سامنے آ جائے گا۔

