بے حسی لاعلاج نہیں ہے

دل پر ہاتھ رکھیے اور بتائیے کہ جس سنگ دل، بے حس معاشرے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں کیا آپ میں سے کوئی بھی یہ چاہے گا کہ اس کے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نوا سے نواسیاں ،بہوئیں داماد بھی ایسےمعاشرے میں اپنا جیون بتائیں۔ حقیقت میں یہ معاشرہ بیمار ہے ذہنی بھی اور جسمانی بھی یہ اپنا علاج چاہتا ہے۔

خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں باہر کا میڈیا، تحقیقی ادارے، تھنک ٹینکس تو ہمارے اس بیمار سماج کا نقشہ کھینچ کر خبردار کر رہے ہیں۔ مائیں ،بہنیں، سہاگنیں پریشان تو ہوتی ہیں، کام پر گئے مرد خیریت سے لوٹیں گے یا نہیں، کوئی موبائل چھنوا کر آئے گا ،کوئی پرس سے محروم لوٹے گا۔ کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن بروقت ڈاکوؤں کو نہیں روکا جاتا۔ آپ اپنی اہمیت کیوں نہیں پہچانتے۔ آپ اس زمین پر اللہ تعالی کے نائب ہیں اشرف المخلوقات ہیں۔

آپ کہیں بھی ہیں کسی بھی عہدے پر۔ ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ بائیکیا بن کر ہم وطنوں کی خدمت کر رہے ہیں یا اپنی گاڑی پر لوگوں کو اپنی منزل ،اپنے دفتر، میٹنگ کے مقام پر یا وہاں سے واپس اپنے گھر پہنچا رہے ہیں یا کسی آن لائن کاروبار کے رائڈر ہیں۔ چھوٹے درجے کےسرکاری ملازم ہیں یا بے روزگار ہیں آپ ہر حیثیت میں اہم ہیں۔ آپ کسی باپ کی مراد ہیں، کسی ماں کی تمنا۔ جس نظام میں بھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس کے قوانین کو جاننے کی کوشش کریں۔ ایک طرف تو جدید ترین ٹیکنالوجی ہے ۔ ہر شخص کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اس فون کے سارے اسرار کا علم ہے ان پڑھ بھی پہچان لیتا ہے کہ کون کال کر رہا ہے۔ کون سی کمپنی کتنے پیکیج دے رہی ہے مگر جب اپنے حقوق اپنی میراث کے تحفظ کا مرحلہ آتا ہے۔ تو آپ کہہ دیتے ہیں۔ کچھ نہیں ہو سکتا ہماری سنتا کون ہے۔ ہماری آبادی میں 60فیصد نوجوان ہیں یہ اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑا کرم ہے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

حکمرانوں ،موروثی سیاستدانوں، اعلیٰ بیوروکریٹوں سے تو اس معاشرے کی بہتری کیلئے کوئی امید کرنا بے سود ہے ۔ یہی تو کہتے ہیں کہ ڈنڈا ہی عوام کا علاج ہے۔ خاص طور پر 1985 ءسے جو سیاست دان اپنی باریاں لے رہے ہیں اور ہمیں خواریاں ۔ ان کو تو عام پاکستانی کی فلاح سے کوئی غرض ہی نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں عالمگیر سطح پر کسی بھی ملک کے جوانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ابھی یوم آزادی پر مجھے دار ا لصحت لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری میں نوجوانوں سے خطاب کا موقع ملا جاوید جبار بھی تھے پیرزادہ قاسم بھی۔ ماشاءاللہ نوجوانوں نے ہر اس جملے پر تالیاں بجائیں ۔جن میں مقررین نے معاشرے کے منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔

مجھے ہمدرد یونیورسٹی ، مدینۃ الحکمت، بحریہ یونیورسٹی ،جناح یونیورسٹی برائے خواتین بھی جانے کا اتفاق ہوتا رہا ہے دوسرے شہروں میں بھی نوجوانوں سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ہے۔ واہگہ سے گوادر تک سب ایک صحت مند ترقی پسند معاشرے کے خواہاں ہیں۔ الخدمت، اخوت، انڈس ہسپتال جیسے روشن خیال اداروں سے توقع کی جا سکتی ہے بلکہ ان کی قومی ذمہ داری بھی ہے کہ اس بیمار معاشرے کا علاج کریں۔ پہلے تشخیص کریں پھر علاج کے طریقہ کار طے کریں ایک شیڈول بنا کر تین تین ماہ کی تجزیاتی رپورٹیں مرتب کریں۔ اس میں پورے ملک میں شاخیں رکھنے والے تعلیمی اداروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں میں عقابی روح پیدا کرنے کا عزم کریں۔

دوسرے ملکوں سے بھی مثالیں لی جا سکتی ہیں۔ جہاں بیمار معاشرے کے علاج کیلئے لوگوں نے خود تحریکیں چلائیں ۔ سب سے زیادہ رہنمائی جنوبی کوریا سے جس نے 1960ءکی دہائی سے 1990ء تک مسلسل جدوجہد کی، ان کے پاس زیادہ وسائل بھی نہیں تھے، غربت انتہا پر تھی، تعلیم کو انہوں نے قومی مشن بنایا ۔ پبلک ٹرانسپورٹ چلائی اور کرائے سستے رکھے تاکہ مزدور آسانی سے آ جا سکیں۔ عوام سے کہا گیا تم کچھ ہو تم سے ہی تبدیلی آئے گی۔ برازیل نے عوام کو سستی ٹرانسپورٹ مہیا کی تیز رفتار بسیں،سبک رفتار ریل گاڑی جیسی، کرایہ عام بسوں جیسا۔ ہر محلے میں پارک ،جہاں اختتام ہفتہ میلے ہوتے جس سے لوگوں کو اپنے شہر میں جگہ ملی۔ جرائم کم ہوئے۔ بنگلہ دیش جو پہلے ہمارا ہی بازو تھا 1971ء میں جب ہم سے علیحدہ ہوا تو دنیا کا سب سے غریب ملک تھا لیکن جدوجہد کی گئی۔ گرامین بینک کا نعرہ یاد کیجئے۔ تم کاروبار کر سکتی ہو۔ غربت 40فیصد سے 18فیصد ہو گئی ۔اپنے دوست ملک ترکیہ سے بھی رہنمائی مل سکتی ہے، دفاعی معاہدے میں تو ہم اس کے ساتھ ہیں ۔یہاں کرنسی کی قدر بہت کم تھی مہنگائی زوروں پر۔ شہروں میں افرا تفری۔ میرا بھی اس زمانے میں وہاں جانا ہوا ہر چیز گراں تر تھی۔ صحت اور تعلیم عام لوگوں کیلئے قابل رسائی بنائے گئے نعرہ بلند کیا گیا، انسان سب سے اہم ہے۔ جہاں جہاں غریب لوگ جمع ہوتے تھے مسجدیں اسکول پارکوں پر خرچہ کیا گیا ۔

دال بندین سے اسکردو تک پاکستانی مایوس دکھائی دیتےہیں۔ اپنے آپ کو بے بس خیال کرتے ہیں، افسر شاہی اور اشرافیہ انہیں اپنی رعونت سے ہر لمحے یہ احساس دلاتی رہتی ہیں کہ تم کچھ نہیں ہو۔ تمہاری حیثیت ہی کیا ہے۔ کہیں لسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے کہیں قومیت کے طعنے دیے جاتے ہیں ۔نسلی حوالے سے لطیفے گھڑے جاتے ہیں۔

اب وقت للکارتا ہے کہ ہر فرد کو ہر پاکستانی کو اہم اور ناگزیر سمجھا جائے اس کی صلاحیتوں کو مملکت کی فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے۔ ایک فرد ایک ووٹ کے نتائج نہ چھینے جائیں اس جور اور جبر کے نتائج ہم دیکھ چکے، ریاست اور لوگوں میں کتنی دوریاں ہو گئی ہیں۔ اب یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، این جی اوز اور میڈیا کو ہر پاکستانی کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ تم ہی اپنے آپ کو، اپنے گھر کو ، اپنے محلے کو، اپنی مملکت کو بدل سکتے ہو۔ اس کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت تک رسائی کی بے نتیجہ کوششیں نہ کریں۔ بلدیاتی ادارے جہاں جہاں ہیں ان سے رابطہ کریں۔ انکے ہاتھ مضبوط کریں ۔ہمارے سامنے جنوبی کوریا ،برازیل ،بنگلہ دیش ،ترکیہ کی مثالیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اگر جستجو کی جائے تو کئی ماڈل دنیا میں مل جائیں گے۔ معاشرے کو اور افراد کو خود ہمت کرنا ہوگی۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں معاشرے حکومتوں سے آگے نکل گئے ہیں… ہمارے 60فی صد نوجوان بھی اس بیمار معاشرے کو حکومت سے آگے لے جاسکتے ہیں ۔یہ دوسرے ملکوں میں جاکر ان کی معیشت مستحکم کرتے ہیںتو اپنی کشور حسین کی اکانومی کو بھی عروج پر لے جاسکتے ہیں ،ہمارے فری لانسر وں کی آمدنی تو پہلے ہی ہماری قدیم معیشت سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ