تیل مہنگا ہونے سے کینیڈا میں پیٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ شروع

اوٹاوا (سی بی سی نیوز / رائٹرز)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کینیڈا میں پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ ماہرین نے آئندہ چند روز میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ گیس بڈی کے مطابق منگل کی دوپہر تک کینیڈا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 1.674 کینیڈین ڈالر فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 3.4 سینٹ زیادہ ہے۔

گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان نے کہا کہ ملک بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت جلد 1.70 کینیڈین ڈالر فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں بیشتر علاقوں میں 5 سے 10 سینٹ فی لیٹر مزید اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوا ہے۔ ان کے مطابق روس اور یوکرین جنگ کے باعث تیل کی رسد پر دباؤ بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت منگل کو بڑھ کر تقریباً 86 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے، تاہم بعد ازاں اس میں معمولی کمی آئی اور قیمت 84 امریکی ڈالر فی بیرل سے کچھ زائد رہی۔

ادھر بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے روس کی رواں سال تیل کی پیداوار کے تخمینے میں 3 فیصد کمی کر دی ہے، جبکہ روس نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پیٹرک ڈی ہان کے مطابق روسی تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے اثرات کینیڈا کے بحرِ اوقیانوس سے متصل صوبوں میں زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں یورپی منڈیوں سے مسابقت کے باعث پیٹرول کی قیمتیں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ اگر ممکن ہو تو مزید اضافے سے پہلے اپنی گاڑیوں میں ایندھن بھروا لیں۔