دہلی میں پھٹے نوٹ پر جھگڑا، ڈیلیوری ورکر کی ہلاکت پر 2 افراد گرفتار

نئی دہلی (ٹائمز آف انڈیا)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 10 روپے کے پھٹے ہوئے نوٹ پر جھگڑے کے بعد مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے 24 سالہ ڈیلیوری ورکر سمیر حسین کی ہلاکت کے مقدمے میں پولیس نے 2 افراد کو گرفتار کر لیا۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سمیر 4 اکتوبر کو مشرقی ونود نگر میں ایک معمر گاہک کو کافی پہنچانے گیا تھا، جہاں ادائیگی میں شامل 10 روپے کے پھٹے ہوئے نوٹ پر اختلاف پیدا ہوگیا۔

سمیر نے الزام لگایا تھا کہ خراب نوٹ قبول کرنے سے انکار پر گاہک نے اسے گالیاں دیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص وہاں پہنچا اور اسے کئی تھپڑ مارے، جبکہ اس کی مالی حالت کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

تحقیقات کے دوران ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں سمیر نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں اور اس تضحیک کا ذکر کیا جس کا اسے سامنا کرنا پڑا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’اس تھپڑ نے میرے دل پر گہری چوٹ لگائی۔‘‘

رپورٹ کے مطابق سمیر نے اسی رات پولیس کنٹرول روم سے بھی رابطہ کیا تھا۔ اس نے 5 اکتوبر کو مبینہ طور پر زہریلا مادہ پی لیا، جس کے بعد اسے لال بہادر شاستری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 20 اکتوبر کو دورانِ علاج دم توڑ گیا۔

پولیس نے واقعے کے سلسلے میں 30 سالہ راکیش عرف بنٹی اور 65 سالہ رامپال سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ سمیر کی ہلاکت کے بعد مقدمے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 108 بھی شامل کر دی گئی، جس کا تعلق خودکشی پر اکسانے سے ہے۔

واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا فیصلہ قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس واقعے نے ڈیلیوری ورکرز کی عزتِ نفس اور تحفظ کے معاملے کو بھی اجاگر کیا ہے، جو مشکل حالات میں روزانہ گاہکوں سے رابطے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔