ریجائنا کی مسجد میں اذان کے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر دھمکیاں، پولیس کا سخت انتباہ

ریجائنا(سی بی سی، ریجائنا پولیس سروس)کینیڈا کے شہر ریجائنا کی ایک مسجد کو جمعہ کے روز لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نشر کرنے کے بعد دھمکیوں اور نفرت انگیز پیغامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریجائنا سٹی جامع مسجد نے گزشتہ جمعہ دوپہر کی نماز سے قبل مسجد کی چھت پر نصب اسپیکر سے اذان کی آزمائشی نشریات شروع کیں۔ یہ اذان تقریباً تین منٹ تک جاری رہی۔مسجد کے ڈائریکٹر محمد انیس الرحمٰن نے کہا کہ مسجد کا مقصد کسی کو پریشان کرنا نہیں بلکہ لوگوں سے رابطہ، تعارف اور علم کا تبادلہ ہے۔

ریجائنا پولیس سروس کے مطابق ایک مقامی مذہبی ادارے کو شہر کے شور سے متعلق ضابطے کے تحت لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ اجازت نامہ 10 جولائی 2026 تک مؤثر رہے گا، جس کے بعد شہر کی انتظامیہ اور پولیس اس کا جائزہ لیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہر سال مختلف کمیونٹی تنظیموں کو ایک سو سے زائد ایسے اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں اور درخواستوں کا جائزہ آواز کے دورانیے، مقام، وقت اور شدت کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

مسجد انتظامیہ کے مطابق اذان روزانہ پانچ مرتبہ یا صبح سویرے اور رات کے وقت نشر نہیں کی جا رہی بلکہ صرف جمعہ کے روز نمازِ جمعہ سے قبل نشر کی جاتی ہے۔

انیس الرحمٰن نے بتایا کہ پہلی اذان کے بعد مسجد کو ٹیلیفون، ای میل اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے 10 سے 15 دھمکی آمیز اور منفی پیغامات موصول ہوئے۔ ان کے مطابق بعض اعتراضات اس غلط فہمی پر مبنی تھے کہ اذان روزانہ کئی بار نشر کی جائے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسجد آئیں اور اذان کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد ہر سوال کا جواب دینے اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مکالمے کیلئےتیار ہے۔

ریجائنا پولیس نے کہا ہے کہ اذان سے متعلق موصول ہونیوالی دھمکیوں سے وہ آگاہ ہیں اور جمعہ کے روز مسلم عبادت گاہوں کے اطراف اضافی پولیس نفری تعینات کی جائیگی۔پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائیگااور حالیہ سخت کیے گئے کینیڈین نفرت انگیز جرائم کے قوانین کے تحت تحقیقات کی جائیں گی۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف ریجائنا میں پولیس اسٹڈیز کے ماہر امین اصفری نے مسجد کو ملنے والی دھمکیوں اور نفرت انگیز رویوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اذان کو عوامی طور پر نشر کرنے کا فیصلہ مناسب نہیں تھا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب کسی مذہبی برادری کے بارے میں وسیع سماجی سطح پر آگاہی کم ہو تو مذہبی علامات کو زیادہ نمایاں کرنے سے پہلے سے موجود تعصبات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس مسجد کے ڈائریکٹر انیس الرحمٰن نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد سوالات کا خیر مقدم کرتی ہے اور مختلف برادریوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر اجازت نامے کے جائزے کا نتیجہ مثبت رہا تو جمعہ کے روز اذان کی نشریات مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔