ایپنک میڈیا اداروں میں مزدور دشمن کسی قانون کو تسلیم نہیں کریگی:شکیل یامین کانگا

اجلاس میں سینئر صحافی صابر علی کے انتقال پر فاتح خوانی اور بلند درجات کی دعا کی گئی

کراچی (نمائندہ خصوصی) آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن (اپینک) کا اجلاس چیئرمین شکیل یامین کانگا کی صدرات میں ہوا جس میں سینئر صحافی سید صابر علی کے انتقال پر فاتح خوانی اور بلند درجات کی دعا کی گئی۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ایپنک مزدور دشمن کسی قانون کو تسلیم نہیں کرےگی۔اگر سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں کالے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، وفاقی حکومت کئی ماہ سے زیر التوا چیئرمین آئی ٹی این کے فوری تقرری کو ممکن بنائے، میڈیا چینلزمیں حالیہ جبری برطرفیوں اور میٹرو چینل کی بندش کی فوری بحالی کا اعلان کیا جائے، اگر میڈیا ورکرز کے چولے ٹھنڈے کرنے کا سلسلہ نہ رکا تو ایپنک راست اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی۔

اجلاس میں کے یو جے کے صدر طاہر حسن ، جنرل سیکرٹری لیاقت کشمیری، وائس چیئرمین ایپنک دارا ظفر ، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل رانا یوسف، خازن عرفان علی، مرزا عمران بیگ ، عبیداللہ عبید اللہ، ندیم محمود، سعید محی الدین ، سلیم اللہ صدیقی اور عثمان بیگ نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی، لاہور اور راولپنڈی اسلام اباد میں اپنیک کے مقامی انتخابات فوری منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کیلئےمشاورت سے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

شرکا نے آئی ایل او کے مقامی افسر کی ملی بھگت سے 73 کے آئین سے متصادم مزدور دشمن قانون کو پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپینک مزدور دشمن کسی قانون کو تسلیم نہیںکرےگی، ایسے قانوں کے خلاف ہر فورم پر بھرپور اواز اٹھا بلند کرے گی۔

شرکا ءنے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ حکومتوں سےمطالبہ کیا کہ وہ کسی صورت ایسے قانون کو صوبے میں نافذ نہیں ہونے دیں۔ اس مزدور دشمن قانون کے خلاف ہر فورم پر بھرپور آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔شرکا ء نے پی ایف یو جےسے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے کئی ماہ سے زیر التواء چیئرمین ائی ٹی اینی کے فوری تقرری کیلئے بات چیت کرے.

شرکا ءنے سما سمیت دیگر چینلوں میں ہونے والی حالیہ جبری برطرفیوں اور میٹرو چینل کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر میڈیا ورکرز کے چولے ٹھنڈے کرنے کا سلسلہ نہ رکا تو ایپنک راست اقدامات کرنے پر مجبور ہوگی۔ حکومت مداخلت کرتے ہوئےٹی وی چینلز سے بے روزگار کیے جانے والے متاثرہ ملازمین کے واجبات فوری ادا کرے اور میٹرو چینل کی بندش ختم کی جائے ۔شرکاء نے وفاقی حکومت مطالبہ کیا کہ ہیلتھ کارڈ کی فوری بحالی اور اس کا دائرہ کار میڈیا ورکرز کے اہل تک بڑھاتے ہوئے انہیں بھی میڈیکل سہولتیں دی جائیں۔