برامپٹن() برامپٹن سٹی نے وفاقی حکومت کے نئے قانون “ضمانت اور سزاؤں میں اصلاحات 2026” (بل سی-14) کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت بار بار اور پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کیلئےضمانت کے قواعد سخت اور سنگین جرائم پر سزائیں مزید سخت کی گئی ہیں۔
یہ قانون 15 جون 2026 کو منظور ہوا اور اس میں فوجداری ضابطہ، نوجوانوں کے فوجداری انصاف کے قانون اور قومی دفاعی قانون میں 80 سے زائد ترامیم شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 15 جولائی 2026 سے نافذ ہوں گی۔
نئے قانون کے مطابق پرتشدد جرائم، آتشیں اسلحہ، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، گھریلو تشدد اور قومی سلامتی سے متعلق جرائم میں ضمانت حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا، جبکہ منظم جرائم کے خلاف اقدامات بھی سخت کیے گئے ہیں۔
شہر برامپٹن کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے ضمانتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اس حوالے سے ناظمِ شہر پیٹرک براؤن، سٹی کونسل کے ارکان، پولیس قیادت، متاثرین کے نمائندوں اور دیگر شراکت داروں نے بار بار وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضمانتی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
شہر کے مطابق “ضمانت میں اصلاح فوری” مہم بھی چلائی گئی جس کا مقصد ایسے ملزمان کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانا تھا جو بار بار پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے۔
ناظمِ شہر پیٹرک براؤن نے کہا کہ برامپٹن برسوں سے اس بات کی وکالت کر رہا ہے کہ شہری محفوظ ماحول کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جہاں پرتشدد اور بار بار جرم کرنے والے افراد ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ جرائم میں ملوث ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص معاشرتی سلامتی کیلئےخطرہ ہو تو اسے جیل میں ہی رہنا چاہیے، نہ کہ دوبارہ جرم کرنے کے لیے آزاد کیا جائے۔
پیل ریجنل پولیس کے سربراہ نشان دورایاپا نے کہا کہ ان کی پولیس فورس نے بھی ملک بھر کی پولیس کے ساتھ مل کر ضمانتی نظام میں اصلاحات کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون متاثرین کے تحفظ، جوابدہی اور عوامی سلامتی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

