کراچی پر بڑھتا ہوا ’ معاشی دباؤ‘

اکثر ہم دیہی سندھ اور شہری سندھ کی سیاست اور تضادات کو، لسانی چشمہ پہن کر دیکھتے ہیں اور اسی سے حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ سات دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی ان تضادات میں اضافہ ہی ہوا کمی نہیں آئی اور اس کا سب سے زیادہ اثر اور دباؤ صوبہ کے دارالحکومت اور ملک کے معاشی حب ’ کراچی‘ پر آیا۔ چونکہ ماسوائے پنجاب کے دیگر صوبوں اور خو ددیہی سندھ میں توکاروبار کے بہت زیادہ ذرائع نہ پیدا ہوئے ،نہ کیے گئے تو بوجھ بھی ملک کے سب سے بڑے شہر اور ’منی پاکستان‘ کے حصے میں آیا جسکے لیے نہ وہ تیار تھا نہ اسے پلان کیا گیا۔ معاشی تضاد بڑھا تو سیاسی تضادات میں بھی اضافہ ہوا اور اس نے لسانی شکل اختیار کرلی۔ آج بھی اس کا حل صرف کراچی یا شہری سندھ نہیں بلکہ پورے سندھ کی ترقی میں ہے اور اس کیلئے صوبے کے تمام بڑے شہروں کو ترقی دینی ہوگی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آپ کتنی ہی سڑکیں،پلازے اور بلند وبالا عمارتیں بنالیں نہ اس شہر کا پانی کا مسئلہ حل ہوگا، نہ بجلی اور گیس کا اور نہ ہی تعلیم اور صحت کا۔اور جب’ معاشی مسائل‘ بڑھتے ہیں تو جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔جس شہر کی آبادی قیام پاکستان کے وقت چند لاکھ تھی آج تین سے چار کروڑ کے درمیان ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

آج سے 78 سال پہلے برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین جن،کی اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی ،نے سندھ کا رخ کیا اور انکی بھی ایک بڑی تعداد کراچی اور حیدرآباد آئی۔’ خواب‘ ایک تھے تو یہاں کے مقامی سندھیوں نے دل کھول کر استقبال کیااور میزبانی کی نئی تاریخ رقم کی۔یہ وہ وقت تھا جب سائیں جی ایم سید کے ہاتھ میں بھی مسلم لیگ کا پرچم تھا اور لیاقت علی خان کے ہاتھ میں بھی۔ سید نے تو پاکستان کے قیام کی قرار داد بھی پیش کی۔

ظاہر ہے تاریخی طور پربھی پاکستان کی تحریک سیاسی ومعاشی حقوق کی تحریک تھی اور اس وقت خواب یہ تھا کہ مسائل حل ہونگے خاص طور پر ’مسلمانوں‘ کے ۔اسی لیے کسی نے اسکو مسلمانوں کیلئے الگ ملک تصور کیا تو کسی نے اسلامی مملکت۔ مگر پھر ہمارے تضادات بڑھتے چلے گئے بلکہ ایک نئے ملک میں اسکی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا جسکی ایک وجہ اس وقت کی قیادت کی بنیادی سیاسی ناکامی ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد نہ کوئی معاشی پلان سامنے آیا اور نہ ہی کسی سمت کا تعین ہو سکا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ خود بانی جماعت مسلم لیگ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں بٹ چکی ہے۔ جن سے ہم الگ ہوئے تھے اس بھارت نے فوراً ہی بنیادی سمت کا تعین کرلیا معاشی مسائل کے حل کی ابتدا ملک سے جاگیرداری نظام کے خاتمے سے کی گئی اور سیاسی معاملات کیلئے آئین کی حکمرانی اورجمہوری اقدار سے۔

پاکستان بننے کے فوراً بعد کراچی وفاقی دارالحکومت بھی بنا اور پھر اچانک اسے ایک نئے شہر اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب نوکر شاہی یا بیورو کریسی میں اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی یا پھر ابتدا میں بنگالیوں کی۔ آہستہ آہستہ دونوں کا تناسب کم ہونا شروع ہوگیا۔ اردو بولنے والے سول سرونٹس نے پنجاب کے بیوروکریٹس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔

10 سال بعد ہی ملک میں پہلا مارشل لا لگا جو10سال رہا۔ بہت سے لوگوں اور اس وقت کے افسران کا دعویٰ ہے کہ ملک کو اس وقت ایک مکمل معاشی پلان دیا گیاتھا مگر چونکہ ایوب خان کے پاس نہ آئینی مینڈیٹ تھا اور نہ ہی سیاسی۔ لہٰذا جب انہوں نے اپنے من پسند صدارتی الیکشن کرائے تو محترمہ فاطمہ جناح کی ’ شکست‘ نے سیاسی تضادات میں اضافہ کردیا جس کا سب سے زیادہ اثر کراچی پر ہوا۔ شہر کا ’ ماسٹر پلان‘ جو ایک دارلحکومت کا تصور لیے بنایا گیا تھا اس میں کئی بنیادی تبدیلیاں کردی گئیں۔ ایک طرف آپ کا پڑوسی ملک اپنی سمت کا تعین کرچکا تھا تو دوسری طرف ہم آزادی کے بعد اب جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے تھے کیونکہ آمریت نے وہ دروازے بند کرنے شروع کردئیے تھے۔

کراچی کی ایک خصوصی حیثیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی تھی کہ وہ ایک ’پورٹ سٹی‘تھا مگر ساتھ میں ایک ’ سیاسی نرسری‘ بھی ۔’سیاسی استحکام‘نہ ہو تو معاشی پلان بھی ناکام ہوجاتا ہے۔ عین ممکن ہے میں غلط ہوں مگر اس شہر کو کبھی آنیوالے ’ معاشی اور آبادی کے دباؤ‘ کیلئے تیار نہیں کیا گیاتھا۔شہر کی آبادی بڑھتی گئی مگر نوکریوں کے ذرائع محدود تھے گوکہ پاکستان اسٹیل اور پورٹ قاسم کے قیام کے بعد یہ امید ضرور پیدا ہوئی تھی کہ مسائل حل کی طرف جائیں گے۔ مگر شہر کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا اس سے صاف ظاہر تھا کہ صرف دیہی سندھ سے ہی نہیں ملک کے دور دراز علاقوں کے لوگوں کیلئے بھی کراچی واحد شہر تھا جہاں کچھ نہ کچھ روزگار مل جانے کی امید تھی۔ اس کا اندازہ آپ اس سے بھی کرسکتے ہیں کہ صرف پشتو بولنے والوں کا کراچی سب سے بڑا شہر ہے ۔ اب چونکہ کوئی پلان نہیں تھا تو کچی آبادیوں کا جال بچھا دیا گیا۔ اس شہر کی آبادی کے تعین میں بھی بار بار ڈنڈی ماری گئی کیونکہ آبادی کا صحیح تعین ہوتا تو اس کے شیئر میں بھی اضافہ ہوتا اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں بھی۔

سندھ میں ایک بڑا سیاسی تضاد ’ کوٹہ سسٹم‘ بھی رہا مگر غور کریں تو اس کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں معاشی ناہمواریوں اور دیہی سندھ میں ترقی کے ذرائع اور تعلیمی سہولتیں کم ہونے سے نظر آتا ہے۔ شاید اس مسئلے کو بہت بہتر انداز میں حل کیا جاسکتا تھا ’ میرٹ‘ کاقتل کیے بغیر۔کم ترقی یافتہ علاقوں کیلئے کوٹہ مخصوص کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسکی وجہ سے میرٹ پر آنیوالے کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس کی میعاد10سال رکھی تھی مگر آج50سال بعد بھی ہم اپنے صوبے کے دیگر شہروں میں نہ معیار تعلیم بلند کرپائے نہ ہی نوکریوں کے ذرائع نکال پائے نتیجےمیں زیادہ دباؤ کراچی پر آیا۔ بد قسمتی سے ہم نے اس مسئلے کو معاشی زاویوں سے دیکھنے کے بجائے لسانی زاویوں سے دیکھنا شروع کردیا جس کا سب سے بڑا نقصان خود صوبہ سندھ کو ہوا۔ ایک طرف آمرانہ پالیسیوں نے شہرکراچی کو آگ وخون میں نہلادیا تو دوسری طرف نہ شہر کا کوئی مربوط’ معاشی پلان‘ آسکا اور نہ ہی صوبہ کا۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو ، ہر مسئلے کو لسانی شکل دیتے جاؤ نہ مسئلہ حل ہوگا نہ تضاد ختم۔ شہر کے سارے بڑے پروجیکٹ تاخیر کاشکار رہے جسکی بڑی وجہ کمیشن اور کرپشن رہی۔

اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانے تمام تر مالی اور انتظامی اختیارات کیساتھ، شہروں کو میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دینے سے کم ازکم ایک ’ معاشی سمت‘ کا تو تعین ہوجائے گا ۔نہ زیادہ صوبے بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کراچی جیسے شہر کو وفاق کے حوالے کرنے کی۔ مگر سوچ ہی سیاسی طور پر خود سیاسی جماعتوں کی یہ ہوکہ اختیارات اگر نچلی سطح تک دیدئیے تو اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کا کیا ہوگا ،ترقیاتی فنڈز نہیں ملیں گے، وزرائے اعلیٰ اور وزیروں کی قیمتیں نہیں لگیں گی، تو پھر حضور آپ اصل جمہوریت ملک میں چاہتے ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج سیاسی طور پر بھی تقسیم ہیں اور معاشی طور پر بھی۔