اسلام آباد کی ایک ممتاز رہائشی سوسائٹی: خوابوں، وعدوں اور حقیقت کے درمیان

ایک ایسی رہائشی کمیونٹی جسے جدید شہری منصوبہ بندی، اعلیٰ معیارِ زندگی اور پریمیم سہولیات کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہو، وہاں سالہا سال سے ٹوٹے ہوئے فٹ پاتھ، سڑکوں پر جمع پانی، پانی کے ٹینکروں پر انحصار، انتظامیہ تک مشکل رسائی اور بنیادی شہری سہولیات سے متعلق مسلسل شکایات کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ یہی سوالات آج بحریہ انکلیو اسلام آباد کے بارے میں بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

جب ملک ریاض حسین نے کئی دہائیاں قبل راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کی بنیاد رکھی تو تصور سادہ مگر جرأت مندانہ تھا: ایسی منصوبہ بند، جدید رہائشی آبادیاں قائم کرنا جو پاکستان کے روایتی اور غیر منظم شہری ڈھانچے سے مختلف ہوں۔ وقت کے ساتھ بحریہ ٹاؤن نے ملک کے مختلف شہروں تک توسیع اختیار کی اور اعلیٰ معیار کی گیٹڈ رہائش، بہتر انفراسٹرکچر اور منظم کمیونٹی پلاننگ کی علامت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔

ابتدائی طور پر یہ ماڈل کامیاب دکھائی دیا۔ کشادہ سڑکیں، بہتر سکیورٹی، پارکس، فٹ پاتھ اور نسبتاً منظم ماحول نے بہت سے خاندانوں اور سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مختلف منصوبوں کے حوالے سے قانونی تنازعات، ریگولیٹری سوالات اور رہائشیوں کی شکایات سامنے آنا شروع ہوئیں۔ بحریہ انکلیو کی صورتحال بھی اسی وسیع تر بحث کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

بحریہ انکلیو کو ایک پریمیم گیٹڈ کمیونٹی کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جہاں جدید سہولیات، منظم شہری منصوبہ بندی اور بہتر معیارِ زندگی کا وعدہ کیا گیا۔ اسی امید پر ہزاروں خاندانوں اور سرمایہ کاروں نے یہاں اپنی جمع پونجی لگائی۔ لیکن آج بہت سے رہائشی یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ کیا زمینی حقائق اب بھی ان وعدوں سے مطابقت رکھتے ہیں؟

مسئلہ کسی ایک گلی، ایک سیکٹر یا چند گھروں تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ انفراسٹرکچر، پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، عوامی مقامات کی دیکھ بھال، انتظامیہ تک رسائی اور قواعد و ضوابط کے نفاذ سے متعلق شکایات مختلف حصوں میں رہنے والے رہائشیوں کے درمیان مسلسل زیرِ بحث رہتی ہیں۔

سب سے نمایاں مسئلہ بنیادی انفراسٹرکچر کی حالت ہے۔ انکلیو کے متعدد حصوں میں فٹ پاتھ سالہا سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یا اس قدر خراب حالت میں ہیں کہ ان پر محفوظ طریقے سے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی سڑکوں پر گڑھے، ناہموار سطحیں اور ٹوٹ پھوٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ بعض مقامات پر گندا پانی مستقل بنیادوں پر جمع رہتا ہے، جو نہ صرف علاقے کی ظاہری حالت کو متاثر کرتا ہے بلکہ مچھروں کی افزائش اور ڈینگی جیسے امراض کے خدشات بھی بڑھاتا ہے۔

جب ایسے مسائل طویل عرصے تک برقرار رہیں، رہائشی بار بار ان کی نشاندہی کرتے رہیں اور اس کے باوجود نمایاں بہتری نظر نہ آئے، تو یہ صورتحال محض وقتی غفلت کے بجائے انتظامی ترجیحات، جواب دہی اور وسائل کے استعمال سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔

عوامی مقامات کی دیکھ بھال بھی ایک مستقل موضوعِ بحث ہے۔ متعدد خالی پلاٹوں میں اونچی گھاس، جھاڑیاں اور غیر مناسب صفائی عام دیکھی جا سکتی ہے۔ رہائشیوں کے مطابق ایسے مقامات سانپوں اور دیگر موذی جانوروں کی موجودگی کے خدشات کو بڑھاتے ہیں۔ شام کے اوقات میں مویشیوں کے ریوڑوں کا پارکوں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں سے گزرنا بھی غیر معمولی منظر نہیں۔ یہ تمام عوامل اس معیار سے مطابقت نہیں رکھتے جس کی توقع ایک پریمیم رہائشی کمیونٹی سے کی جاتی ہے۔

پانی کی فراہمی کا مسئلہ شاید سب سے زیادہ حساس اور بنیادی نوعیت کا ہے۔متعدد خاندان اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کیلئے ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض رہائشیوں کے مطابق پانی کے حصول کیلئے مسلسل رابطوں، درخواستوں اور سفارشوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک ایسی کمیونٹی میں جہاں رہائشی نمایاں ماہانہ مینٹیننس فیس ادا کرتے ہوں، بنیادی ضرورتِ زندگی کیلئےاس سطح کا انحصار یقیناً تشویش کا باعث بنتا ہے۔

انتظامیہ تک رسائی کا طریقۂ کار بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا بھر میں بیشتر ادارے ای میل، آن لائن پورٹلز اور ڈیجیٹل شکایتی نظام کے ذریعے خدمات فراہم کرتے ہیں، وہاں ذاتی حاضری، تحریری درخواستوں اور دفاتر کے چکر لگانے کا طریقہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ متعدد رہائشیوں کے مطابق انتظامیہ سے بروقت رابطہ کرنا اور مسائل کے بارے میں واضح جواب حاصل کرنا آسان نہیں۔ ایک جدید رہائشی منصوبے سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کے انتظامی نظام بھی اسی معیار کے مطابق ہوں گے۔

بجلی اور عوامی تحفظ سے متعلق مسائل بھی وقتاً فوقتاً توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ بعض مقامات پر بجلی کے کھلے تار زمین پر پڑے نظر آتے ہیں، جو واضح حفاظتی خدشات پیدا کرتے ہیں۔ بجلی کی فراہمی اور مرمت کے معاملات سے متعلق شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان حالات میں بہت سے رہائشی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب ہر گھر سے باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ مینٹیننس فیس وصول کی جاتی ہے تو اس کے بدلے میں فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کا معیار کیا ہونا چاہیے۔

سکیورٹی کے حوالے سے بھی رہائشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ چوری، فراڈ اور دیگر جرائم سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ مکینوں کا کہنا ہے کہ داخلے اور نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ہے ہی نہیں ۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے کیونکہ بحریہ انکلیو کو ایک محفوظ اور منظم گیٹڈ کمیونٹی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

اانفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ ایک اہم سوال قواعد و ضوابط کے نفاذ سے متعلق ہے۔ متعدد رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں قواعد و ضوابط کا اطلاق یکساں طور پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق عام رہائشیوں کے لیے ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے، انہیں جرمانے بھی کیے جاتے ہیں، جبکہ بااثر اور انتظامیہ کے منظورِ نظر افراد کو کھلی رعایت حاصل ہوتی ہے۔ اگر آزادانہ جانچ اور تحقیقات کی جائیں تو ایسی بہت سی مثالیں سامنے آ سکتی ہیں۔

یہ شکایت تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے عام ہے۔ رہائشیوں کے مطابق مقررہ اوقاتِ کار میں، جہاں عام لوگوں کے لیے سخت ضابطے ہیں اور سکیورٹی اہلکار باقاعدہ مزدوروں کو کام سے روک دیتے ہیں، وہیں انتظامیہ کے منظورِ نظر اور بااثر افراد کو کھلی چھوٹ حاصل ہوتی ہے، اور وہ رات گئے تک تعمیراتی کام، شور شرابہ، ڈرلنگ اور مشینری کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔

اسی طرح تعمیرات کے دوران ہمسایہ املاک کے تحفظ سے متعلق قواعد بھی کاغذوں میں موجود ہیں کہ انتظامیہ دورانِ تعمیرات سخت نگرانی کرے گی۔ کسی بھی تعمیراتی سرگرمی کے دوران پڑوسی گھروں، دیواروں اور دیگر املاک کو نقصان سے بچانا تعمیرات کرنے والے کی بنیادی ذمہ داری ہوگی، اور نقصان کی صورت میں اس کا فوری ازالہ بھی کیا جائے گا۔ مشاہدے کے مطابق یہ قواعد بھی صرف کاغذوں تک محدود ہیں، اور خصوصاً وہ افراد جو یا تو انتظامیہ کے منظورِ نظر ہیں، یا جن میں اخلاقیات کی پاسداری کا تصور نہیں ہوتا اور جو خود کو کسی قاعدے قانون سے مبرا سمجھتے ہیں، اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ وہ ہمسایوں کا کتنا نقصان کر رہے ہیں اور انہیں کتنی ذہنی اذیت پہنچا رہے ہیں۔ یہاں بھی شواہد موجود ہیں کہ اگر انتظامیہ کو کبھی ایسی کوئی شکایت کی بھی جائے تو کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ یہی دوہرا معیار ہمارے معاشرے اور اداروں کے بڑے مسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ جب قانون، ضابطے اور انصاف طاقت، تعلقات یا سفارش کے تابع محسوس ہونے لگیں تو عوام کا اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔

انکلیو انتظامیہ اگر یہ دلیل دیتی ہے کہ اسے قانونی پیچیدگیوں یا دیگر انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، تو بھی ان عوامل کی موجودگی رہائشیوں کے تجربات اور شکایات کی اہمیت کو کم نہیں کرتی، کیونکہ انتظامیہ تمام گھروں سے مستقل مینٹیننس فیس اور دیگر مدات میں بھی اچھی خاصی رقم وصول کرتی ہے۔ کسی بھی کامیاب رہائشی منصوبے کا اصل پیمانہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے رہائشیوں کے روزمرہ مسائل کو کس حد تک مؤثر طریقے سے حل کرتا ہے۔

جب تک پاکستان میں”خاص” اور “عام”، “اپنے” اور “پرائے”، اور بااثر و بے اثر شہریوں کے درمیان امتیازی رویے ختم نہیں ہوں گے، عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں ہوگا۔ قانون اور ضابطے اسی وقت معتبر بنتے ہیں جب ان کا اطلاق سب پر یکساں ہو ، چاہے سامنے عام شہری ہو، بااثر سرمایہ کار، ڈویلپر یا کسی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ۔

اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو بحریہ انکلیو جدید رہائش کے نمونے کے بجائے نجی میگا ڈویلپمنٹس میں کمزور نگرانی، غیر مؤثر احتساب، ناقص شہری سہولیات اور رہائشی حقوق کے ناکافی تحفظ کی ایک مثال بنتا چلا جائیگا۔ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے بحریہ کی قیادت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں، دونوں کو فیصلہ کن اقدامات کرنا ہونگے ، جن میں آزاد تحقیقات، قواعد کا یکساں نفاذ، مؤثر سکیورٹی، شفاف شکایتی نظام، بہتر انفراسٹرکچر، پانی و بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی، خالی پلاٹوں اور عوامی مقامات کی صفائی، اور رہائشیوں سے کیے گئے وعدوں کی عملی تکمیل شامل ہیں۔

بحریہ انکلیو کا معاملہ دراصل ایک بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اگر حکومت کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کو باقاعدہ منظوری دیتی ہے اور عوام اسی اعتماد پر اربوں بلکہ کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری صرف ابتدائی منظوری تک محدود نہیں رہ سکتی۔ مسلسل نگرانی، ریگولیٹری تعمیل اور رہائشیوں کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک مؤثر، بااختیار اور قابلِ رسائی نظام موجود ہو جہاں رہائشی اس صورت میں رجوع کر سکیں جب سوسائٹی کی داخلی انتظامیہ ان کے مسائل یا شکایات کی مؤثر شنوائی نہ کرے۔ ایسے نظام کو آزادانہ تحقیقات، جواب دہی، متاثرین کے ازالے اور قواعد کے بلاامتیاز نفاذ کو یقینی بنانے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ بحریہ انکلیو ایک کامیاب منصوبہ ہے یا ناکام۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی کمیونٹی، جو خود کو ملک کی ممتاز رہائشی آبادیوں میں شمار کرتی ہے، اپنے رہائشیوں کو وہ معیار، جواب دہی اور سہولیات فراہم کر رہی ہے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جب تک اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں ملتا، وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔